جنگ کے چند ہفتوں میں 180ارب اورموجودہ مالی سال میں لیوی کے نام پر 1234ارب روپے ظالمانہ ٹیکس وصول کیاگیا۔حافظ نعیم الرحمن
حکومت عوام کی جیبوں پرڈاکہ ڈالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔
عوام کرپشن اور لوٹ کھسوٹ سے بچنے کے لئے جماعت اسلامی کی بدل دو نظام تحریک کاساتھ دیں۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان کا پشاور میں تربیت گاہ سے خطاب
پشاور: 19اپریل 2026ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ آئی پی پیز اور ایل این جی کے ظالمانہ معاہدوں سے چند سو لوگوں نے اربوں روپے کمائے۔اکثر معاہدے جعلی طریقے سے کئے گئے۔آئی پی پیز کی طرح ایسے سب معاہدوں کے خلاف عوام کو منظم کرکے ان مگر مچھوں کے پیٹ سے لوٹی گئی قومی دولت کی پائی پائی نکلوائیں گے۔یہ کرپٹ اور بدیانت لوگ تینوں حکومتی پارٹیوں میں موجود ہیں اور ہر حکومت میں شامل ہوکر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔ظلم کا یہ نظام اب نہیں چلے گا۔جماعت اسلامی ان لٹیروں کو عوام کے سامنے لائے گی۔ملک میں بجلی کی پیداوار 49ہزار میگا واٹ اور ضرورت 24تا 25ہزارمیگا واٹ ہے۔بد انتظامی کی انتہا کہ حکومت نے ضرورت سے زائدبجلی پیدا ہونے کے باوجود عوام کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔گڈ گورننس کی دعویدار پنجاب اور کے پی کے حکومتیں آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک کررہی ہیں۔پنجاب میں ایک کروڑ اور کے پی میں پچاس لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ سرکاری سکولوں کو آؤٹ سورس کرکے طلبا کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا بھی استحصال کیا جارہا ہے۔اسٹیبلشمنٹ سوسالہ انگریز کے مسلط کردہ نظام کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے۔ انتظامی کے ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی اختیارات بھی بیوروکریسی کے حوالے کردیئے گئے ہیں۔آئین کا تقاضا ہے کہ یہ اختیارات مقامی حکومتوں کے پاس ہوں۔ظلم و جبر کے اس نظام کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔جماعت اسلامی عوامی قوت سے اس نظام کا صفایا کرکے اسلام کا عادلانہ نظام لائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے مرکز اسلامی پشاور میں تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تربیت گاہ سے سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق، لیاقت بلوچ، ڈاکٹر عطا الرحمن، ڈاکٹر اسامہ رضی، شیخ عثمان فاروق ایڈووکیٹ، صوبائی امیر عبد الواسع، مولانا محمد اسمعیل اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امریکہ دہشت گرد ریاست ہے جس نے غزہ میں اسرائیل کا ساتھ دے کر مسلمانوں کا قتل عام کیا۔اسرائیل دوسال سے غزہ میں ہمارے بچوں کوقتل کررہا ہے مگر حکومت میں رہنے والی تینوں پارٹیاں خاموشی سے یہ ظلم دیکھتی رہیں اور کسی نے بھی اس کی مذمت نہیں کی۔ ایران جنگ میں ذلت آمیز شکست کے بعد ٹرمپ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنی خفت مٹانا چاہتا ہے۔ ذلت و خواری کے بعد مذاکرات ٹرمپ کی ضرورت بن گئے ہیں۔مصالحت اور جنگ بندی کی کوشش درست مگر امریکی غلامی منظورنہیں،امریکی دوستی نے سوائے دہشت گردی کے ہمیں کچھ نہیں دیا۔امریکہ نے ہمیشہ پیٹھ میں چھرا گھونپااور امن کوتباہ کیا۔ٹرمپ سے قربت ہمیں اب بھی کوئی فائدہ نہیں دے گی۔انہوں نے کہا کہ مصالحت ضرورکروانی چاہئے مگر یہ بات ذہن نشین رکھنی ہوگی کہ امریکہ نے کبھی بھی پاکستان کا ساتھ نہیں دیا۔71ء میں پاکستان دو لخت ہوگیا مگر امریکی بیڑا نہیں پہنچا اور 2001میں امریکہ کا ساتھ دینے پر ہمیں دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں ملا،ہماری معیشت اور امن تباہ ہوگیا۔ایران نے ہرمز کھول دی تھی مگر امریکہ کی طر ف سے ناکہ بندی کے بعد دوبارہ بند کردی۔امریکہ ایک طرف مذاکرات کی بات اور دوسری طر ف جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات میں خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں ایک بڑی عوامی قوت بن کر سامنے آئے گی۔ملک کو ایسی دیانت دار قیادت کی ضرورت ہے جو مشکل حالات میں عوام کے ساتھ کھڑی ہو اور عام آدمی کی خدمت پر یقین رکھتی ہو۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والی پارٹیوں کے اپنے اندر جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں،چند خاندانوں نے ان پارٹیوں پر قبضہ کررکھا ہے،کسی سیاسی کارکن کو ان سے سوال کرنے کی جرات نہیں۔جماعت اسلامی 25اپریل سے 15 مئی تک ملک بھر میں ممبر شپ تحریک کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جماعت کے ذمہ داران اور کارکنان پوری تندہی سے اس مہم میں جُت جائیں۔