سوات کے علاقہ مدین میں غیر پختون سیاح پر قرآن جلانے کا الزام لگا کر مذہبی جنونیوں کے جتھے نے تھانہ میں گھس کر قتل کردیا طالبان کی پنجابیوں اور پختونوں میں دوریاں پیدا کرنے کی سازش سوات میں سیاحت تباہ کرنے کا سازشی منصوبہ

سوات کے علاقہ مدین میں غیر پختون سیاح پر قرآن جلانے کا الزام لگا کر مذہبی جنونیوں کے جتھے نے تھانہ میں گھس کر قتل کردیا طالبان کی پنجابیوں اور پختونوں میں دوریاں پیدا کرنے کی سازش سوات میں سیاحت تباہ کرنے کا سازشی منصوبہ

پاکستان انسانوں کے رہنے کی جگہ نہیں رہی

یہاں سے اپنے خاندان کے ساتھ بھاگ جائیں

سوات میں سیاح توہین مذہب کے الزام میں قتل، لاش جلا دی گئی
سوات کے علاقے مدین میں مبینہ طور پر قران کی بے حرمتی کے الزام میں ایک سیاح کو ہجوم نے تشدد کر کے قتل کر دیا ہے۔

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح پر مبینہ طور پر قران کے اوراق جلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

پولیس نے مشتعل ہجوم سے بچا کر ملزم کو تھانے منتقل کر دیا تھا۔

مظاہرین نے پولیس سٹیشن مدین پر دھاوا بول کر تھانے کو جلا دیا اور ملزم کو پولیس کی حراست سے چھڑا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

ہجوم نے سیاح کو ہلاک کرنے کے بعد اُس کی لاش کو بھی نذر آتش کر دیا۔

علاقے میں حالت کشیدہ ہیں اور بازار میں پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں

پشاور: خیبر پختون خوا حکومت نے سوات مدین واقعے کا نوٹس لیا ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

پشاور: معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

پشاور: تمام محرکات سامنے لاکر قانون کے مطابق کاروائی کی جائیگی، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

پشاور:سوات انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

پشاور: وزیراعلی نے آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

پشاور: عوام سے پرامن رہنے کی اپیل ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

سوات مدین واقعہ/وزیر اعلی کا نوٹس

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کا (مدین) سوات میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کا نوٹس،

وزیر اعلیٰ کا انسپکٹر جنرل پولیس سے ٹیلیفونک رابطہ،

آئی جی پی سے واقعے کی رپورٹ طلب،

وزہر اعلی کی آئی جی پی کو صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت،

وزیر اعلی کا اس ناخوشگوار واقعے پر اظہار افسوس،

وزیر اعلیٰ کی شہریوں سے پر امن رہنے کی اپیل،

مدین میں افسوسناک واقعہ
ایک پنجابی سیاح نے مدین میں قران شریف کو جلا دیا، پولیس نے اپنے حراست میں لیا ہیں لیکن مدین کے مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ۔
مدین پولیس سٹیشن کے باہر ہزاروں کے تعداد میں لوگ جمع ہوۓ ۔ پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے حوالے کریں لیکن پولیس کے انکار پر مقامی لوگوں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس میں ایک رہائشی شدید زخمی ہوا اور مدین ہسپتال منتقل کردیا۔۔ مقامی لوگوں نے مدین پولیس سٹیشن کو اگ لگا دیا اور تھانہ کو جلا دیا۔۔۔
لوگوں نے تھانہ کو جلا کر اندر داخل ہوۓ اور منحوس کو گولی مار کر ھلاک کردیا اور زمین پر گھسیٹ کر مدین اڈہ کو لی جایا، اور وہاں لٹکایا۔۔قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے والا تو آپنے انجام کو پہنچ گیا لیکن صاحب اختیار لوگوں کو درخواست ہیں کہ اس واقعے کا تحقیقات کریں اورعوام کو بتا دیں کہ اتنی دور سے آئے ہوئے شخص نے سوات میں قرآن شریف کی بیحرمتی کیوں کی اور سوات کا انتخاب کس بنیاد پر کیا یہ حادثاتی طور پر نہیں ہوا ہے بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا ہےیہ کام یہ پنجاب میں بھی کر سکتا تھا لیکن اس نے سوات کو کیوں چنا حالنکہ پتہ ہے کہ سیاح لاکھوں کے تعداد میں ارہے ہیں اور یہ کام یہ ملعون سیالکوٹ سے اکر یہاں کر رہا ہے ۔۔ ضرور اسکے پیچھے کچھ مقاصد ہونگے تحقیقات ہونے چاہیئے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں