پبلک نیوز کی خبر، معذرت اور این سی سی آئی اے نوٹسز: صحافتی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی

پبلک نیوز کی خبر، معذرت اور این سی سی آئی اے نوٹسز: صحافتی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی

لاہور: پنجاب کی اعلیٰ بیوروکریسی کی سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش پر مبینہ طور پر کروڑوں روپے خرچ کیے جانے سے متعلق پبلک نیوز کی ایک رپورٹ نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ معاملہ اس وقت مزید دلچسپ صورت اختیار کر گیا جب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے پبلک نیوز کے سینئر اینکر پرسن سلمان حیدر، ہیڈ آف انویسٹی گیشن سیل انور حسین سمرا اور معروف وی لاگر ارشاد بھٹی کو 10 جون کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیے۔

صحافتی حلقوں میں اس پیش رفت پر مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خصوصاً اس حوالے سے کہ ایک نشریاتی خبر کے معاملے میں این سی سی آئی اے کا دائرۂ اختیار کس حد تک بنتا ہے۔

دوسری جانب پبلک نیوز انتظامیہ نے چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر سرکاری افسران کی رہائش گاہوں پر مبینہ اخراجات سے متعلق نشر کی گئی خبر پر غیر مشروط معذرت کرتے ہوئے وضاحتی مؤقف اختیار کیا ہے۔ چینل کی جانب سے خبر کی نشریات پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔

تاہم اس تمام صورتحال میں قانونی اور صحافتی حلقوں کی توجہ ایک اہم نکتے پر مرکوز ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کوئی خبر غلط یا گمراہ کن ثابت ہو تو اس کے تدارک کے لیے بنیادی فورم پیمرا ہے، جو الیکٹرانک میڈیا کے مواد کی نگرانی اور ضابطہ کاری کا اختیار رکھتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی فرد یا ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی ہو تو وہ عدالت میں ہتکِ عزت (Defamation) کا دعویٰ بھی دائر کر سکتا ہے۔

صحافیوں کے ایک حلقے کا مؤقف ہے کہ سلمان حیدر اور انور حسین سمرا نے مذکورہ خبر ٹی وی پلیٹ فارم پر نشر کی، جبکہ ان کے خلاف یہ اعتراض بھی سامنے نہیں آیا کہ انہوں نے خبر کو اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپ لوڈ یا پھیلایا ہو۔ اسی لیے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ این سی سی آئی اے کی کارروائی کی قانونی بنیاد کیا ہے اور آیا اس معاملے کا تعلق سائبر کرائم قوانین سے بنتا بھی ہے یا نہیں۔

انور حسین سمرا کو لاہور کی صحافتی برادری میں ایک سینئر اور معتبر تحقیقاتی صحافی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ سلمان حیدر بھی الیکٹرانک میڈیا کا نمایاں نام سمجھے جاتے ہیں۔ ارشاد بھٹی کی طلبی نے بھی اس معاملے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

اب تمام نظریں 10 جون کو ہونے والی پیشیوں اور متعلقہ اداروں کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔ صحافتی تنظیمیں اور میڈیا مبصرین اس معاملے کو آزادیِ صحافت، میڈیا ریگولیشن اور سائبر قوانین کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد یہ تنازع کس سمت جاتا ہے اور متعلقہ ادارے اپنے اقدامات کے حق میں کیا قانونی جواز پیش کرتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں