پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے فریقین کو 14 روز کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیر ایمرجنسی نافذ کی گئی اور آئین میں درج قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق صدر مملکت کے پاس ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے ٹھوس شواہد بھی موجود نہیں تھے۔ درخواست گزاروں نے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کے اختیار اور اس اقدام کی آئینی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا، تاہم عدالت نے وفاقی اور صوبائی قانونی حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزاروں کے وکلا معظم بٹ، سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر سمیر کھوسہ نے دلائل میں کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی منظوری آئینی طور پر ضروری ہے، لیکن اس معاملے میں اسمبلی سے منظوری نہیں لی گئی۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 232(1) کے تقاضے پورے کیے بغیر ایمرجنسی نافذ کرنا غیر قانونی ہے۔
وکیل معظم بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر صوبے میں دہشت گردی کی صورتحال تشویش ناک تھی تو اس سے نمٹنے کے لیے اپیکس کمیٹی سمیت دیگر فورمز موجود ہیں، جن میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں، گورنر اور سیکیورٹی اداروں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔
بیرسٹر سمیر کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مطابق ایسے حالات نہیں تھے کہ صوبائی حکومت کے لیے معاملات چلانا ناممکن ہو گیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ، صوبائی کابینہ اور دیگر حکام کو غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ ان کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی بحالی اور وزیراعلیٰ و اسپیکر کی رہائی کی استدعا بھی کی گئی۔
دورانِ سماعت جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو پیش کرنے یا بازیاب کرانے کے لیے درخواست میں استدعا کی گئی ہے، جس پر وکیل نے اثبات میں جواب دیا۔ عدالت نے درخواست گزاروں کی جانب سے عبوری ریلیف کی استدعا پر بھی کہا کہ اس معاملے کو دیکھا جائے گا۔
ایک اور درخواست کے حوالے سے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایمرجنسی کے نفاذ کو نہیں بلکہ گورنر راج کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے کے 12 اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال خراب تھی اور وہاں ایمرجنسی کے نفاذ کو درست قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم پشاور، نوشہرہ اور مردان سمیت دیگر اضلاع میں حالات نسبتاً بہتر تھے۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ ایمرجنسی پہلے ہی نافذ کی جا چکی ہے، اس لیے درخواست گزار اس اقدام پر توجہ دیں جسے وہ چیلنج کر رہے ہیں۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کو جواز بنا کر صوبے میں یہ اقدامات کیے گئے، جبکہ ان کی جماعت نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کی حمایت کی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو گرفتار یا حراست میں لیا جا رہا ہے، رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور کارکنوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا لانگ مارچ جاری ہے اور وزیراعلیٰ سمیت دیگر ارکان کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ صوبائی خودمختاری اور جمہوریت کے لیے ایک اہم آئینی سوال ہے۔ ان کے مطابق ایمرجنسی کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے، جبکہ گورنر راج کے لیے آئینی شرائط پوری ہونا لازم ہیں۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کی بحالی اور گورنر راج و ایمرجنسی کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل عدالتوں کے ذریعے نکلنا چاہیے اور سیاسی اختلافات کو ایسے اقدامات تک نہیں لے جانا چاہیے جن سے عوام میں نفرت بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین بڑی جدوجہد کے بعد تشکیل دیا گیا تھا اور اس کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے پُرامن احتجاج کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ اگر مذاکرات ہونے ہوتے تو اب تک ہو چکے ہوتے، تاہم ان کی جماعت دہشت گردی کے معاملے پر ایسا کوئی بیان نہیں دینا چاہتی جس سے سیکیورٹی صورتحال متاثر ہو۔
کیس کی آئندہ سماعت 10 نومبر کو ہوگی، جب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے جواب اور درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سمیت متعلقہ آئینی نکات پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔ عدالت کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کی آئینی حیثیت پر حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔