سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت، سوشل میڈیا پر بوسہ لینے پر قتل کیے جانے کا دعویٰ غیر مصدقہ
سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں۔
سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق دونوں بنگلہ دیشی شہریوں کو 14 اکتوبر 2026 کو مکہ کے علاقے میں سزائے موت دی گئی۔ حکام کے بیان میں مسجد میں غیر اخلاقی فعل کا ذکر کیا گیا، تاہم سرکاری بیان میں اس فعل کی تفصیل واضح نہیں کی گئی۔
سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دونوں کا تعلق میاں بیوی سے تھا اور انہیں مسجد کے صحن میں بوسہ لینے پر گرفتار کرکے سزائے موت دی گئی۔ تاہم دستیاب معلومات سے ان کے میاں بیوی ہونے اور صرف بوسہ لینے پر سزا دیے جانے کے دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیشی قونصل خانے کا کہنا ہے کہ اسے سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل مطلع نہیں کیا گیا تھا، جبکہ سعودی حکام کے مطابق کارروائی عدالتی فیصلے اور قانونی مراحل کی تکمیل کے بعد کی گئی۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو، جس میں ایک خاتون کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے، کے بارے میں فیکٹ چیک رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ جنوری 2015 کی پرانی ویڈیو ہے اور اس کا حالیہ واقعے سے تعلق ثابت نہیں ہوا۔
واقعے کے حوالے سے مختلف دعووں کے باعث ضروری ہے کہ مصدقہ معلومات اور غیر تصدیق شدہ سوشل میڈیا پوسٹس میں فرق رکھا جائے۔ تاحال یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ دونوں شہریوں کو محض بوسہ لینے پر سزائے موت دی گئی تھی۔