خیبرپختونخوا میں انتظامی اصلاحات کا آغاز، سرکاری گاڑیوں، خریداریوں اور افسران کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ
پشاور: خیبرپختونخوا میں انتظامی نظم و ضبط، سرکاری وسائل کے شفاف استعمال اور محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ سرکاری گاڑیوں کے استعمال، گزشتہ چھ ماہ کے ایندھن اخراجات، جاری سرکاری خریداریوں اور بیوروکریسی میں تبادلوں سے متعلق اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ صوبائی حکومت کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے پولیس، صفائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اقدامات کی تفصیلات بھی پیش کی ہیں۔
سرکاری گاڑیوں اور اخراجات کا ریکارڈ طلب
ممبر ایڈوائزری کونسل آصف رفیق نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری گاڑیوں کی مکمل تفصیلات اور گزشتہ چھ ماہ کے ایندھن اخراجات کا ریکارڈ جمع کرایا جائے۔ تمام محکموں میں بائیومیٹرک حاضری اور وقت کی پابندی لازمی قرار دیتے ہوئے انتظامی سیکرٹریز کو دفاتر اور ترقیاتی منصوبوں کے مقامات پر اچانک معائنے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
غیر مجاز طور پر غیر حاضر رہنے اور فرائض انجام دیے بغیر تنخواہیں وصول کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ ملازمین کی حاضری کی نگرانی کے لیے ہر محکمے میں فوکل پرسن نامزد کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق سرکاری گاڑیوں کی ملکیت، لیز، کرائے اور ترقیاتی منصوبوں کے تحت موجود گاڑیوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ مقررہ استحقاق سے زائد یا غیر قانونی طور پر استعمال ہونے والی گاڑیاں واپس لینے، جبکہ ریٹائرڈ اور تبادلہ شدہ افسران کے زیر استعمال سرکاری گاڑیاں فوری واپس کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
مجاز منظوری کے بغیر نئی سرکاری گاڑیاں الاٹ کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی گاڑیاں صرف منظور شدہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ منصوبوں کی تکمیل پر متعلقہ گاڑیاں واپس کرنا ہوں گی، جبکہ ذاتی استعمال کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ گاڑیوں کی واپسی سے متعلق حتمی رپورٹ 15 دن میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکاری خریداریوں کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ
چیف سیکرٹری آفس خیبرپختونخوا نے تمام انتظامی سیکرٹریز اور منسلک محکموں کے سربراہان کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے سرکاری خریداریوں کے جاری معاملات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
مراسلے کے مطابق سرکاری اشیا کی خریداری، تعمیراتی کاموں اور خدمات کے حصول سے متعلق ہر معاملے کو محکمانہ ضروریات، ترجیحات اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی روشنی میں جانچا جائے گا۔ جائزے میں فنڈز کی دستیابی، قانونی تقاضوں کی تکمیل، شفافیت اور عوامی مفاد کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔
انتظامی سیکرٹریز کو اپنے محکموں، منسلک ڈائریکٹوریٹس، ڈویژنل اور ضلعی دفاتر میں بھی اس عمل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جاری خریداریوں کو منسوخ کرنے کا عمومی حکم نہیں دیا گیا، بلکہ ہر معاملے کا انفرادی جائزہ لے کر نتائج اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
چار سینئر افسران کے تبادلے
محکمہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ خیبرپختونخوا نے گریڈ 19 کے چار سینئر افسران کی خدمات ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ، ڈیزگنیٹڈ ڈسٹرکٹس کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل سیکرٹری (اسٹاف) ٹو چیف سیکرٹری ڈاکٹر عدنان خان بھیٹانی، ڈی جی پی ڈی ایم اے عارف اللہ اعوان، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور ڈاکٹر قاسم علی خان اور تعیناتی کے منتظر محمد عابد خان وزیر کے تبادلے کیے گئے ہیں۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے احکامات کے تحت ان تبادلوں کو فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔
ثمر ہارون بلور کی پریس کانفرنس، پولیس اور شہری سہولتوں سے متعلق اقدامات کا اعلان
خیبرپختونخوا کی مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مہینے صوبے میں پیش آنے والے حالات سب کے سامنے ہیں اور صوبے میں بدامنی کے باعث اقدامات کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ صحافی برادری نے بھی بہت قربانیاں دی ہیں اور ملک کی سلامتی و دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق صوبے میں جھوٹ اور پروپیگنڈے کے بجائے سچائی اور عملی اقدامات کو ترجیح دینا ہوگی۔
ثمر ہارون بلور نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی اب سوشل میڈیا تک محدود ہو چکی ہے اور اس کے بعض سوشل میڈیا پیجز بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی تنقیدی مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ اس دوران اشتعال انگیز باتیں پھیلائی گئیں۔
مشیر اطلاعات نے بتایا کہ گورنر راج کے پہلے روز اپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد کرایا گیا۔ ان کے مطابق وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا پولیس کو اے پی سی کی 10 گاڑیاں فراہم کی گئیں، جبکہ شہداء کے خاندانوں کو 55 سے زائد پلاٹس دیے گئے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں اور شہداء کے پیکجز میں اضافہ کیا گیا ہے اور پولیس کانسٹیبلز کی تنخواہیں دوسرے صوبوں کے برابر لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
صفائی کے حوالے سے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی) کو فعال بنایا گیا ہے اور شہر میں صفائی ستھرائی کا نظام بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا کی ہدایت پر تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن بھی شروع کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال صوبے میں منشیات کی اسمگلنگ کے واقعات سامنے آئے، جبکہ رواں سال پولیس نے 960 کلوگرام منشیات پکڑی ہیں۔
صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مزید اقدامات کا اعلان
ثمر ہارون بلور نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف پشاور کا دورہ کرکے اہم اعلانات کریں گے۔ ان کے مطابق پنجاب میں قائم ہسپتالوں کی طرز پر خیبرپختونخوا میں بھی ہسپتال بنانے کے منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔
انہوں نے ضم اضلاع میں تعلیم کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرانشاہ سے بچیوں نے پیغام بھیجا کہ وہاں ایک اسکول بھی موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پسماندہ علاقوں میں تعلیمی سہولتوں کی فراہمی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
مشیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ وہ ہر ہفتے میڈیا کے سامنے پیش ہو کر اپنی کارکردگی اور حکومتی اقدامات کی تفصیلات فراہم کریں گی۔
صوبائی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد، سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت اور مختلف محکموں کی کارکردگی میں بہتری کے نتائج آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔