پشاور اسکول سانحہ: 31 افراد جاں بحق، 52 زخمی، مالکان اور ٹھیکیدار سمیت نامزد افراد کے خلاف مقدمہ درج

# پشاور اسکول سانحہ: 31 افراد جاں بحق، 52 زخمی، مالکان اور ٹھیکیدار سمیت نامزد افراد کے خلاف مقدمہ درج

**عمارت کا ساختی ڈھانچہ کمزور تھا، ابتدائی رپورٹ کمشنر پشاور کو ارسال، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت، صوبے بھر کے نجی اسکولوں کی عمارتوں کے معائنے کا فیصلہ**

پشاور: دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھتیں اور عمارت کا حصہ گرنے کے المناک حادثے میں 30 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی جاں بحق ہونے سے متعلق ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے، جبکہ 52 افراد کے زخمی ہونے کا بھی مقدمے میں ذکر کیا گیا ہے۔ مقدمہ تھانہ آغہ میر جانی شاہ میں قتل بالسبب سمیت مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں اسکول مالکان، شیئر ہولڈرز اور عمارت تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق اسکول کی عمارت میں مبینہ طور پر ناقص تعمیراتی مواد استعمال کیا گیا تھا، جبکہ عمارت کی دیواروں اور چھتوں کے بوسیدہ ہونے کی شکایات بھی پہلے کی گئی تھیں۔ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بچوں کی جانب سے شکایات کے باوجود اسکول انتظامیہ نے مبینہ طور پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ اسکول کی اراضی 16 مرلے پر مشتمل تھی، جو وحید اور جاوید کی ملکیت بتائی گئی ہے، جبکہ 2024 میں لیز پر اراضی حاصل کرکے وہاں عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر پشاور نے حادثے سے متعلق ابتدائی رپورٹ کمشنر پشاور ڈویژن کو ارسال کردی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اسکول کی تین منزلہ عمارت گنجان آباد علاقے میں واقع تھی اور ابتدائی مشاہدات کے مطابق اس کا ساختی ڈھانچہ کمزور تھا۔ پہلی منزل کے کلاس روم کا ڈھانچہ گراؤنڈ فلور کے کلاس روم پر آ گرا۔ حادثے کے وقت دونوں کلاس رومز میں طلبہ موجود تھے، جس کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ تاہم عمارت گرنے کی حتمی وجہ ابھی سامنے نہیں آئی اور اس سلسلے میں تفصیلی تکنیکی تحقیقات کی جائیں گی۔

رپورٹ کے مطابق ریسکیو کنٹرول روم کو صبح 8 بج کر 48 منٹ پر حادثے کی اطلاع ملی، جس کے سات منٹ کے اندر ابتدائی ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ آپریشن میں دو ڈیزاسٹر رسپانس گاڑیوں سمیت 100 سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا۔ ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کے ساتھ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی اور انہیں لیڈی ریڈنگ اسپتال اور نصیراللہ بابر اسپتال منتقل کیا گیا۔ دونوں اسپتالوں میں مجموعی طور پر 89 مریض لائے جانے کی اطلاع دی گئی، جن میں سے 34 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 52 مریض ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیے گئے۔ مختلف رپورٹس میں اموات کی تفصیلات اور اعداد و شمار کی حتمی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

حادثے کے اسباب اور ذمہ داری کے تعین کے لیے حکومت نے دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی ہے، جس کی سربراہی سیکرٹری ٹرانسپورٹ زبیر احمد کریں گے، جبکہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کے چیف انجینئر جمشید علی خان کمیٹی کے رکن ہوں گے۔ کمیٹی کو سات روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیٹی عمارت کے تعمیراتی معیار، ساختی حالت، دیکھ بھال، حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد اور اسکول انتظامیہ سمیت متعلقہ محکموں یا اداروں کی ممکنہ غفلت کا جائزہ لے گی۔

ادھر محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے صوبے کے تمام اضلاع میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کے معائنے کے لیے انسپکشن کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔ ان کمیٹیوں کی سربراہی ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کریں گے، جبکہ محکمہ تعلیم، محکمہ مواصلات و تعمیرات اور دیگر نامزد ارکان بھی شامل ہوں گے۔ کمیٹیاں ذاتی ملکیت یا کرائے پر حاصل کی گئی تمام نجی اسکولوں کی عمارتوں کا موقع پر معائنہ کریں گی۔

معائنے کے دوران چھتوں، دیواروں، ستونوں، شہتیروں، بنیادوں، سیڑھیوں اور عمارت کے دیگر اہم حصوں کی مضبوطی کا جائزہ لیا جائے گا۔ عمارتوں کو محفوظ، مرمت طلب اور ممکنہ طور پر غیر محفوظ زمروں میں تقسیم کیا جائے گا۔ فوری خطرے کی حامل عمارتوں کے استعمال کو معطل کرنے یا ان تک رسائی محدود کرنے کی سفارش بھی کی جاسکے گی۔ کمیٹیوں کو نوٹیفکیشن کے اجرا کے تین دن کے اندر تفصیلی رپورٹ اور ضروری اصلاحی اقدامات کی سفارشات محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسکول کے مالک خان محمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسکول کی بنیاد ڈیڑھ سال قبل رکھی گئی تھی اور گزشتہ کئی دنوں سے جاری بارشوں کے باعث حادثہ پیش آیا۔ ان کے مطابق وہ واقعے کی صبح متاثرہ کلاس روم میں خود بھی گئے تھے اور حادثے کے بعد اساتذہ کو بلا کر بچوں کو نکالنے کا عمل شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دوسری منزل پر ایک کمرہ گرا، جس کے نتیجے میں نیچے کے کمرے بھی متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق متاثرہ کلاس میں تقریباً 30 بچے تھے، جبکہ اسکول میں مجموعی طور پر 350 طلبہ زیرتعلیم تھے۔

تاہم سیکرٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم نے کہا ہے کہ عمارت کی حالت مخدوش تھی اور محکمہ تعلیم کو اس حوالے سے کسی نے اطلاع نہیں دی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے، جبکہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا بھی معائنہ کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ زخمی بچوں کے علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔

دیر کالونی کا یہ المناک سانحہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت، تعمیراتی معیار اور متعلقہ حکام کی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ اب تحقیقاتی کمیٹیوں کی رپورٹوں اور قانونی کارروائی کے ذریعے حادثے کی اصل وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جانا باقی ہے۔

ادارتی نوٹ: حتمی اشاعت سے پہلے ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی تصدیق ضروری ہے۔ موصولہ مواد میں ابتدائی رپورٹ کے مطابق 34 اموات درج ہیں، جبکہ ایف آئی آر سے متعلق ٹکرز میں 31 اموات (30 بچے اور ایک ٹیچر) بیان کی گئی ہیں۔ اسی طرح زخمیوں اور اسپتالوں سے فارغ کیے گئے مریضوں کے اعداد و شمار کو بھی متعلقہ حکام سے دوبارہ کنفرم کرلیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں