اٹک میں تعینات پنجاب پولیس کے 40 ہزار اہلکار واپس روانہ، 21 روز بعد سرکاری اسکول کھلنے کا امکان، لانگ مارچ کے دوران شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا
اٹک: بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کو عدالتوں سے ریلیف نہ ملنے پر سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کی کال کے بعد پنجاب کے مختلف اضلاع سے اٹک پہنچنے والے تقریباً 40 ہزار پولیس اہلکار منگل کی دوپہر اپنے اپنے اضلاع کی جانب روانہ ہوگئے۔ ان اہلکاروں کی رہائش کے لیے سرکاری اسکولوں، کالجوں، سرکاری رہائش گاہوں اور شادی ہالوں میں انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ ان کے کھانے، چائے اور دیگر ضروری سہولیات کی ذمہ داری اٹک پولیس کے سپرد تھی۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پولیس اہلکاروں کی واپسی کے نتیجے میں ضلع اٹک کے وہ سرکاری اسکول، جو گزشتہ 21 روز سے بند تھے، دوبارہ کھولنے اور باقاعدہ تدریسی عمل شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
لانگ مارچ کے پیش نظر ان پولیس اہلکاروں کو جی ٹی روڈ اٹک پل، موٹروے، سی پیک، ہزارہ موٹروے، حسن ابدال ایبٹ آباد روڈ، جنڈ، خوشحال گڑھ کوہاٹ روڈ سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ملانے والی اہم شاہراہوں پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس دوران مختلف مقامات پر سینکڑوں کنٹینرز رکھ کر سڑکیں اور پل بند کیے گئے، جبکہ مٹی سے بھرے تھیلے بھی کنٹینرز اور سڑکوں پر رکھے گئے، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق ڈیوٹی کے دوران اٹک میں بیرونِ ضلع سے تعلق رکھنے والے پانچ پولیس اہلکار ہارٹ اٹیک اور دیگر وجوہات کے باعث انتقال کر گئے۔ ان میں ایک اہلکار غازی بروٹھا نہر میں ڈوب کر جاں بحق ہوا، جس کی لاش آٹھ روز بعد غازی بروٹھا ڈیم سے برآمد ہوئی۔
پولیس اہلکاروں کی واپسی کے بعد کنٹینرز ٹرانسپورٹروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جبکہ ضلع اٹک میں خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں کو جانے والی شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹانے اور صفائی کے بعد ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد اٹک میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد کارکن یا تو اٹک سے باہر مقیم ہیں یا اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔
اس تمام صورتحال کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما میجر طاہر صادق اور ان کی صاحبزادی، سابق امیدوار قومی اسمبلی ایمان طاہر صادق نمایاں طور پر سیاسی سرگرمیوں میں متحرک رہے۔ دونوں رہنماؤں نے اٹک کے سرحدی علاقوں میں کارکنوں کے ساتھ وقت گزارا، لانگ مارچ کے حوالے سے بھرپور مہم چلائی اور کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے سرگرم رہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر اور رکن پنجاب اسمبلی قاضی احمد اکبر خان کی بیرونِ ملک موجودگی، جبکہ پارٹی سے تعلق رکھنے والے اٹک کے دیگر دو ارکانِ پنجاب اسمبلی، سید اعجاز بخاری اور سردار محمد علی خان کی عدم موجودگی بھی کارکنوں میں زیرِ بحث رہی۔
پی ٹی آئی کارکنوں نے شکوہ کیا کہ اٹک سے تعلق رکھنے والے تینوں ارکانِ پنجاب اسمبلی مشکل وقت میں ان کے ساتھ موجود نہیں تھے، جس کے باعث انہیں خود کو بے یار و مددگار محسوس کرنا پڑا۔ کارکنوں کے مطابق سیاسی بحران کے دوران منتخب نمائندوں کی موجودگی اور رہنمائی ان کے لیے اہم تھی۔