نیشنل پریس کلب اور روٹس ملینیم اسکولز کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط، صحافیوں کے بچوں کو داخلے میں پچاس اورفیسوں میں بیس فیصدرعایت دی جائے گی
اسلام آباد (سٹی رپورٹر) نیشنل پریس کلب اسلام آباد اور روٹس ملینیم اسکولز کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب این پی سی میں منعقد ہوئی، معاہدے پر نیشنل پریس کلب کی جانب سے صدر عبدالرزاق سیال جبکہ روٹس ملینیم اسکولز کے بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل مشتاق نے دستخط کیےجس کے تحت نیشنل پریس کلب کے ممبران کے بچوں کو تعلیمی فیسوں میں خصوصی رعایت فراہم کی جائے گی۔ اس موقع پر فنانس سیکرٹری عابد عباسی، جوائنٹ سیکرٹری شکیلہ جلیل، سید ضیغم نقوی، ناصر اسلم راجہ سمیت دیگر ممبران بھی موجود تھے۔تقریب سے خطاب اپنےمیں این پی سی کے صدر عبدالرزاق سیال نے روٹس ملینیم اسکولز کے بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل مشتاق کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پریس کلب صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دے رہا ہے ، روٹس ملینیم اسکولز کیساتھ معاہدہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے،بچوں کو معیاری تعلیم دلوانا ہر شخص کی خواہش ہے،روٹس ملینیم اسکولز کی جانب سے نیشنل پریس کلب کے ممبران کے بچوں کی تعلیم کے لیے خصوصی رعایت فراہم کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے،روٹس ملینیم اسکولز کا شمار پاکستان کی بہترین درسگاہوں میں ہوتا ہے،سیکرٹری این پی سی ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا ہے کہ این پی سی کے ممبران کے بچے ملک کے مختلف اضلاع میں رہائش پذیر ہیں لہذاٰ اس معاہدے کا اطلاق روٹس ملینیم اسکولز کے تمام کمپیسزپر لاگو کیا جائے تاکہ تمام ممبران کے بچے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں،فنانس سیکرٹری عابد عباسی نےروٹس ملینیم اسکولز کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ صحافیوں کے خاندانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔روٹس ملینیم اسکولز کے بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل مشتاق نے نیشنل پریس کلب کی قیادت اور ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم تک رسائی کو آسان بنانا ان کے ادارے کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ صحافی معاشرے میں آگاہی، شعور اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کے بچوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرنا ایک مثبت سماجی اقدام ہے۔ڈاکٹر فیصل مشتاق نے بتایا کہ ان کی والدہ نے تقریباً 40 سال قبل تعلیم کے فروغ کے لیے اس سفر کا آغاز کیا تھا۔ 1988 میں راولپنڈی میں 40 بچوں کے ساتھ تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی گئی، جو وقت کے ساتھ ترقی کرتے ہوئے روٹس ملینیم اسکولز کی صورت میں ایک بڑے تعلیمی نیٹ ورک میں تبدیل ہوگیا اور اس وقت ادارہ ملک بھر میں اپنے مختلف75 کیمپسز کے ذریعے بچوں کو ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ سطح کی تعلیم تک مواقع فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ روٹس ملینیم اسکولز میں روایتی تعلیم کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی، روبوٹکس، اسٹیم ایجوکیشن، غیر ملکی زبانوں، کھیلوں، اساتذہ کی تربیت اور بین الاقوامی تعلیمی مواقع پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ ادارے کے طلبہ کو مختلف ملکی و بین الاقوامی تعلیمی پروگراموں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ڈاکٹر فیصل مشتاق نے کہا کہ تعلیم صرف کاروبار نہیں بلکہ ایک اہم سماجی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق ادارے کی پالیسی میں مستحق اور باصلاحیت طلبہ کے لیے وظائف بھی شامل ہیں، جبکہ ادارے کی فاؤنڈیشن سرکاری اسکولوں کی استعداد بڑھانے اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے تعلیم کے شعبے میں نئی راہیں کھولی ہیں، تاہم ٹیکنالوجی کبھی بھی استاد، والدین اور بچوں کے درمیان انسانی تعلق کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔ تعلیمی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنائیں، لیکن بچوں کی ذہنی و جذباتی نشوونما، سماجی تربیت اور انسانی روابط کو بھی یکساں اہمیت دیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران دنیا بھر میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بندش نے تعلیمی نظام کو غیر معمولی چیلنج سے دوچار کیا۔ اس عرصے میں دنیا بھر کے تقریباً 1.6 ارب بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی اور آن لائن تدریس کو فروغ ملا، چیٹ جی پی ٹی، بڑے لینگویج ماڈلز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے تعلیم کے روایتی طریقوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کی، تاہم اس تجربے نے یہ بھی واضح کیا کہ محض آن لائن تعلیم بچوں کی تمام تعلیمی، سماجی اور جذباتی ضروریات پوری نہیں کرسکتی۔ڈاکٹر فیصل مشتاق نے کہا کہ بچوں کی تعلیم میں اسکرین ٹائم، موبائل فون اور انٹرنیٹ کے بے جا استعمال کے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچوں کو جدید آلات اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کی سرگرمیوں، ذہنی صحت اور جذباتی کیفیت پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ روٹس ملینیم اسکولز میں چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت کے طلبہ کو لیپ ٹاپ کے استعمال کی سہولت فراہم کی گئی ہے تاکہ انہیں جدید تعلیمی وسائل سے استفادہ کرنے کا موقع ملے۔ ان کے مطابق، ٹیکنالوجی کو تعلیم کا مؤثر معاون بنانا وقت کی ضرورت ہے، لیکن اس کے ساتھ اساتذہ کی رہنمائی، بچوں کی سماجی تربیت اور خاندان کے کردار کو بھی برقرار رکھنا ہوگاانہوں نے مزید کہا کہ نیشنل پریس کلب کے ممبران کے لیے روٹس ملینیم اسکولز کے ساتھ ساتھ ادارے کے دیگر متعلقہ تعلیمی برانڈز میں بھی رعایتی سہولتوں کی فراہمی پر تعاون کیا جائے گا، جبکہ مختلف کیمپسز اور پروگراموں کے مطابق رعایت کی تفصیلات مختلف ہوسکتی ہیں۔معاہدے کے تحت نیشنل پریس کلب کے ممبران کو داخلہ فیس میں 50 فیصد اور ٹیوشن فیس میں 20 فیصد رعایت فراہم کی جائے گی، جبکہ سیکیورٹی فیس میں بھی 50 فیصد رعایت دی جائے گی۔ اس اقدام سے صحافیوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کے حصول میں مالی سہولت میسر آئے گی۔تقریب کے اختتام پر نیشنل پریس کلب کی قیادت نے ڈاکٹر فیصل مشتاق اور روٹس ملینیم اسکولز کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اشتراک صحافی برادری کی فلاح و بہبود اور ان کے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے اہم ثابت ہوگا۔