سعودی عرب کی جانب سے یمن میں انصار اللہ کے خلاف کارروائی کے لیے شامی جنگجوؤں کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش، دمشق نے درخواست مسترد کردی

سعودی عرب کی جانب سے یمن میں انصار اللہ کے خلاف کارروائی کے لیے شامی جنگجوؤں کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش، دمشق نے درخواست مسترد کردی

ترکیہ ٹوڈے کے مطابق شامی ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب نے شام سے یمن میں تعیناتی کے لیے شامی جنگجوؤں کو منظم کرنے اور بھیجنے کی باضابطہ درخواست کی تھی، تاہم دمشق نے یہ درخواست مسترد کردی۔

ذرائع کے مطابق ریاض گزشتہ کئی ماہ سے یمن میں اپنی عسکری ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ممالک سے فوجی اہلکاروں اور تربیت کاروں کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شام نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس وقت اپنی فوج کی تنظیم نو میں مصروف ہے اور کسی تیسرے فریق کی حیثیت سے یمن کی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔

شامی ذرائع کے مطابق دمشق ان افراد کو بیرون ملک جا کر ذاتی حیثیت میں کسی کارروائی میں شامل ہونے سے نہیں روک رہا، تاہم ایسی کسی سرگرمی کی ذمہ داری شام کی حکومت قبول نہیں کرے گی۔

دوسری جانب ترک ذرائع نے ان دعوؤں کی بھی تردید کی ہے کہ ترکیہ نے شامی جنگجوؤں کو یمن پہنچانے یا منظم کرنے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ علاقائی ذرائع نے بھی ان اطلاعات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے کہ شامی جنگجو ترک اہلکاروں کے ساتھ مل کر یمن جانے والی ٹیموں کا حصہ بن رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اب بھی متعدد ممالک سے فوجی اہلکاروں اور انسٹرکٹرز کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، جہاں مبینہ طور پر بھرتی کی کوششوں کو پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

ترکیہ ٹوڈے کے مطابق شمالی افریقی ممالک میں بھی ممکنہ بھرتی کی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مکہ معاہدے کے تحت ترکی یا پاکستان کی کوئی شمولیت ہوتی ہے تو اس کا دائرہ مبینہ طور پر دفاعی نوعیت کے فرائض، اہم تنصیبات اور اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کے تحفظ تک محدود ہوگا، نہ کہ انصار اللہ کے خلاف زمینی کارروائیوں میں براہ راست حصہ لینے تک۔

نوٹ: رپورٹ میں متعدد دعوے ذرائع سے منسوب اور بعض اطلاعات غیر مصدقہ قرار دی گئی ہیں، اس لیے انہیں حتمی طور پر ثابت شدہ پیش رفت کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں