کوہاٹ پرانی پولیس لائنز مسجد پر خودکش حملے کے بعد صوبائی حکومت، پولیس اور انتظامیہ متحرک، شہداء کی نماز جنازہ ادا، زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا

کوہاٹ پرانی پولیس لائنز مسجد پر خودکش حملے کے بعد صوبائی حکومت، پولیس اور انتظامیہ متحرک، شہداء کی نماز جنازہ ادا، زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا

کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کے بعد صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے امدادی و انتظامی سرگرمیاں جاری رہیں۔ حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، جس میں انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید، صوبائی وزیر اطلاعات شفیع اللہ جان، وزیر قانون آفتاب عالم، جنرل آفیسر کمانڈنگ، کمشنر کوہاٹ سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات، شہداء کے اہلخانہ اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔

نماز جنازہ کے موقع پر کوہاٹ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی جبکہ اعلیٰ حکام نے شہداء کے جسد خاکی پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں۔ پولیس، افواج پاکستان اور سول انتظامیہ کے افسران نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہداء کے جسد خاکی ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کر دیے گئے۔

آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ شہداء کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا اور دہشتگردوں پر خیبرپختونخوا کی سرزمین تنگ کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بزدل دہشتگردوں نے نماز جمعہ ادا کرنے والے نمازیوں کو نشانہ بنایا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشتگردوں کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ آئی جی نے کہا کہ دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا رہا ہے اور سہولتکاروں کو بھی جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

صوبائی وزیر اطلاعات، سائنس و ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے ڈی ایچ کیو اسپتال کوہاٹ کا دورہ کیا اور دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔ انہوں نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور ان کے علاج معالجے کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ وزیر اطلاعات نے اسپتال انتظامیہ سے زخمیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور علاج کے حوالے سے بریفنگ بھی لی اور ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات، علاج اور نگہداشت فراہم کی جائے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔

دھماکے کے زخمیوں میں سے ایک مریض کو مزید علاج کے لیے خیبر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ کے ٹی ایچ کے ترجمان سجاد خان کے مطابق حکومت خیبرپختونخوا کی ہدایات پر اسپتال انتظامیہ ہائی الرٹ ہے اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طبی عملہ اور متعلقہ شعبے مکمل طور پر تیار ہیں۔

دوسری جانب کوہاٹ دھماکے کے دو زخمی شاکر حسین اور بادشاہ گل کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور منتقل کیا گیا، جہاں دونوں کو ایمرجنسی میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق دونوں زخمیوں کے سر پر چوٹیں آئی ہیں اور ڈاکٹرز کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعاگو ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستان کے لیے 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور صوبہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا فرنٹ لائن صوبہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام مسلسل دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں اور ان قربانیوں کی قدر کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوں کے عوام محب وطن پاکستانی ہیں اور کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

سہیل آفریدی نے عوام میں تفریق، تعصب اور نفرت پیدا کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے خلاف کہے گئے الفاظ ان کے زخم تازہ کرتے ہیں اور شہداء کی بے حرمتی کے مترادف ہیں۔ انہوں نے بعض سیاسی بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا سمیت تمام صوبوں کے عوام نے پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان ان کا ملک ہے اور عوام کے درمیان نفرت یا تفریق پیدا کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔

ادھر وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت خیبرپختونخوا کابینہ کے اراکین کا اجلاس بھی ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں کوہاٹ واقعے کے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں