پٹرولیم لیوی کے خاتمے پر حکومت کل تک ٹھوس تجویز دے، 20 ستمبر کا اسلام آباد مارچ حتمی ہے، لیاقت بلوچ
اسلام آباد: جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کے حوالے سے مذاکرات کا چوتھا دور مکمل ہوگیا۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت نے مسئلے کے حل کے لیے کل تک کا وقت مانگا ہے، تاہم 20 ستمبر کا اسلام آباد مارچ حتمی ہے۔
لیاقت بلوچ نے پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اگر پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے حوالے سے کوئی ٹھوس تجویز پیش کرتی ہے تو جماعت اسلامی اپنے مؤقف کا ازسرنو جائزہ لے سکتی ہے۔ فیصلہ اب حکومت کے ہاتھ میں ہے اور گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا ملک بھر میں احتجاج جاری ہے اور آج 45 مقامات پر دھرنے اور احتجاج ہو رہے ہیں۔ جماعت اسلامی نے مذاکرات میں واضح کیا کہ محض اعلانات کافی نہیں، عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کو کسی ریلیف کا کریڈٹ لینے کا شوق نہیں، اگر جماعت اسلامی کے دباؤ کے نتیجے میں عوام کو ریلیف ملتا ہے تو یہ خوشی کی بات ہوگی، تاہم موجودہ ریلیف کا طریقہ کار عوام کو حقیقی فائدہ نہیں دے گا کیونکہ ڈیزل پر انحصار کرنے والے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی، بجلی اور دیگر عوامی مسائل کے حوالے سے اپنی تجاویز تفصیل اور دلائل کے ساتھ حکومت کے سامنے پیش کردی ہیں۔ پالیسی ریٹ میں تین فیصد کمی سے بھی ملک میں سیکڑوں ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے، جبکہ پانچ ریفائنریز کو بلاجواز منافع دیا جا رہا ہے۔ بنیادی مسئلہ بیڈ گورننس اور حکومتی اخراجات ہیں، عوام کو ریلیف سے محروم کرنا مسئلے کا حل نہیں۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 20 ستمبر کا اسلام آباد مارچ عوام کو ریلیف دینے کے مطالبے کے لیے ہوگا۔ مذاکرات ختم نہیں ہوئے، حکومت اگر ایسی ٹھوس تجویز پیش کرتی ہے جس سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو حقیقی ریلیف کا راستہ نکلتا ہو تو جماعت اسلامی اپنے موقف کا ازسرنو جائزہ لے گی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ احتجاج ہر سیاسی جماعت اور گروہ کا آئینی و جمہوری حق ہے، جماعت اسلامی کسان اتحاد اور پاکستان تحریک انصاف سمیت سب کے پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ اسلام آباد مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا، تاہم اگر حکومت سیاسی حق کو کچلنے کی کوشش کرے گی تو جماعت اسلامی بھی پرامن اور آئینی طریقے سے اس کا مقابلہ کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلہ پیدا ہونا تشویشناک ہے۔ ان کے بقول اگر بھارت کی جانب سے کسی ممکنہ کارروائی کا خدشہ ہے تو ایسے حالات سے بچنے کے لیے عوام کو ریلیف دینا اور ان کے مسائل حل کرنا بھی ضروری ہے۔ حکومت اب عملی اور ٹھوس تجاویز پیش کرے، فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔