خیبرپختونخوا اسمبلی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے لاہور میں مبینہ بدسلوکی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور، وفاقی حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ

خیبرپختونخوا اسمبلی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے لاہور میں مبینہ بدسلوکی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور، وفاقی حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لاہور میں پیش آنے والے واقعے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی۔ اجلاس کے دوران ایجنڈا معطل کرکے واقعے پر بحث کی گئی، قرارداد صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے پیش کی۔ قرارداد میں وزیراعلیٰ کے ساتھ مبینہ غیر قانونی اور غیر آئینی سلوک، انہیں پولیس گاڑی میں منتقل کرنے، سکیورٹی سے محروم کرنے اور بعد ازاں سڑک کنارے چھوڑنے کے واقعے کی مذمت کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ منتخب وزیراعلیٰ کو بغیر قانونی جواز روکنا آئین کی خلاف ورزی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کی شخصی آزادی، وقار اور تحفظ سے متعلق معاملہ سنگین نوعیت کا ہے۔ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر دوسرے صوبے کے وزیراعلیٰ کے ساتھ مبینہ غیر قانونی سلوک ناقابل قبول ہے اور پولیس و انتظامیہ آئین و قانون سے بالاتر نہیں۔

قرارداد کے مطابق واقعے میں اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کی تحقیقات کی جائیں اور وفاقی حکومت فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائے۔ پنجاب حکومت سے بھی واقعے میں مبینہ غیر آئینی اقدام کی وضاحت طلب کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایوان نے مطالبہ کیا کہ موقع پر موجود پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لیا جائے، جبکہ ویڈیو فوٹیجز، سی سی ٹی وی اور دیگر شواہد کی مکمل جانچ کی جائے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اگر غیر قانونی حراست یا اختیارات سے تجاوز ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق پنجاب پولیس کی جانب سے وزیراعلیٰ کو مبینہ طور پر پولیس گاڑی میں منتقل کیا گیا اور بعد میں سکیورٹی کے بغیر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لیڈر آف دی ہاؤس یا لیڈر آف دی اپوزیشن کے ساتھ اس نوعیت کا رویہ قابل مذمت ہے۔

آفتاب عالم نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور انہیں دستیاب طبی سہولیات کا معاملہ بھی اسمبلی میں اٹھایا اور کہا کہ عدالت کے فیصلے کے مطابق انہیں الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جانا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور تحریک انصاف کو سیاسی طور پر دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔

وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان نے بھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ لاہور اپنے شہید کارکن کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے گئے تھے، جہاں انہیں سڑکوں پر روکا گیا اور ان کی تذلیل کی گئی۔ انہوں نے پنجاب پولیس کی جانب سے کارکنوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کا بھی دعویٰ کیا۔

پی ٹی آئی رکن سجاد بارکوال نے کہا کہ لیڈر آف دی ہاؤس کے ساتھ تذلیل آمیز رویہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔

حکومتی رکن ریاض خان نے بھی وزیراعلیٰ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ملک کے سیاسی رہنماؤں کے باہمی احترام کو برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے لاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ اور احتجاج کے حق کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا۔

دوسری جانب لاہور میں پیش آنے والے واقعے کی پنجاب حکومت کی جانب سے مختلف وضاحت سامنے آئی ہے۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اغوا یا حراست میں لیے جانے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی خود پولیس گاڑی میں سوار ہوئے تھے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق کے پی حکومت کے ایک عہدیدار نے بھی مؤقف دیا کہ وزیراعلیٰ گرفتار کارکنوں کی رہائی کے لیے پولیس گاڑی میں سوار ہوئے، جبکہ پولیس کا مؤقف اور واقعے کی ویڈیو کو لے کر دونوں جانب سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد میں واقعے سے متعلق شواہد کی جانچ اور ذمہ داروں کے تعین پر زور دیا گیا ہے، جس کے بعد معاملہ مزید سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں