اسلام آباد میں دو ماہ، پنجاب میں پانچ روز کے لیے دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی

اسلام آباد میں دو ماہ، پنجاب میں پانچ روز کے لیے دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی

اسلام آباد/اٹک: امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد میں دو ماہ جبکہ پنجاب بھر میں پانچ روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، جس کے تحت عوامی اجتماعات، جلوس اور اسلحہ کی نمائش سمیت مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

حکومت پنجاب کی ہدایت پر محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق صوبے کی تمام حدود میں عوامی مقامات، گلیوں، سڑکوں، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس اور دیگر اجتماعات پر پابندی ہوگی۔

حکم نامے کے مطابق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد و گرجا گھروں میں عبادات، سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے سرکاری فرائض اور عدالتوں کی کارروائیاں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی، جبکہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے قانون کے تحت اجازت دیے گئے پروگرام بھی مستثنیٰ ہوں گے۔

پنجاب میں غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت پر اکسانے اور عوامی مقامات پر ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش، اسے ساتھ لے کر چلنے یا لہرانے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ سرکاری فرائض انجام دینے والے، قانون نافذ کرنے والے، انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکار اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پابندیاں 13 ستمبر 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور پانچ روز تک جاری رہیں گی، تاہم ضرورت کے مطابق ان میں ترمیم یا انہیں قبل از وقت واپس لیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ دو ماہ کے لیے کردیا گیا ہے۔ متعلقہ نوٹیفکیشن کے تحت دارالحکومت میں مختلف عوامی سرگرمیوں اور اجتماعات پر پابندیاں عائد رہیں گی۔

دفعہ 144 کے نفاذ کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی دھرنوں کے بعد 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں