






پشاور اور باڑہ میں سیکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے اکاخیل، باڑہ اور حاجیانوں کلی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، فائرنگ کے تبادلے میں کمانڈر سمیت 4 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک دہشتگردوں کی شناخت کمانڈر خالد عمر غازی، ملک عرب گل، اریانا اور حنظلہ کے نام سے ہوئی ہے۔
دوسری جانب سی ٹی ڈی پشاور ریجن نے شمشتو کیمپ کے قریب کابل انگلش لینگویج سینٹر کے ایک کمپاؤنڈ میں کارروائی کرتے ہوئے 5 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کمپاؤنڈ میں موجود داعش خراسان (ISKP) کے دہشتگرد حساس اداروں، امام بارگاہوں اور چرچز پر بم دھماکوں سمیت بڑی دہشتگرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں کالعدم تنظیم کا اہم کمانڈر عمران عرف عبداللہ عرف بلال عرف ابوبکر اور شاہد اللہ ولد میراج سکنہ اپر مومند شامل ہیں، جبکہ دیگر دہشتگردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ کارروائی کے دوران ایک ایس ایم جی، 4 پستول، 2 ہینڈ گرنیڈ، 5 میگزین، ایک خودساختہ آئی ای ڈی اور متعدد کارتوس برآمد ہوئے۔
ترجمان کے مطابق عمران عرف ابوبکر اسلام آباد سمیت مختلف اضلاع میں بم دھماکوں، پولیس اور سیاسی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ سمیت دہشتگردی کے 20 مقدمات میں مطلوب اشتہاری دہشتگرد تھا۔ وہ مولانا خانزیب، سینیٹر ہدایت اللہ اور ریحانزیب کی شہادت کے مقدمات میں بھی مطلوب تھا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق عمران عرف ابوبکر 6 فروری 2026 کو ترلئی، اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی مطلوب تھا۔ عمران نے مبینہ طور پر حملے کے لیے خودکش جیکٹ باجوڑ سے منگوائی اور خودکش بمبار کو نوشہرہ سے ترلئی پہنچایا، جبکہ شاہد اللہ نے امام بارگاہ کی ریکی اور ٹارگٹ کی نشاندہی کی تھی۔
ترجمان کے مطابق عمران عرف ابوبکر 2023 میں باجوڑ کے جے یو آئی (ف) ورکرز کنونشن پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی ملوث تھا، جبکہ اس کی گرفتاری یا سراغ دینے کے لیے ایک کروڑ 20 لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق دونوں کارروائیوں کے بعد علاقوں میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔