سینئر صحافی نصرت جاوید کی مایوسی پر صحافتی حلقوں میں بحث، ابصار عالم سمیت متعدد معروف صحافیوں کا ردعمل

سینئر صحافی نصرت جاوید کی مایوسی پر صحافتی حلقوں میں بحث، ابصار عالم سمیت متعدد معروف صحافیوں کا ردعمل

اسلام آباد: پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر کی گئی ایک جذباتی پوسٹ نے صحافتی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔ نصرت جاوید نے تقریباً پچاس برس صحافت سے وابستگی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ سچ کی تلاش، جھوٹ کو بے نقاب کرنے اور عوامی مفاد کے لیے طویل جدوجہد کے باوجود وہ ملک کی پوری سیاسی قیادت سے شدید مایوس ہو چکے ہیں۔

اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ اب وہ ایک دوراہے پر کھڑے ہیں، جہاں ایک طرف پیشہ چھوڑ کر تمام نام، شواہد اور حقائق عوام کے سامنے لانے کا راستہ ہے، جبکہ دوسری جانب خاموشی اختیار کر کے تمام راز اپنے ساتھ قبر میں لے جانے کا فیصلہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر وہ سب کچھ بیان کرتے ہیں تو ممکن ہے انہیں معاشی، سماجی اور پیشہ ورانہ تنہائی کا سامنا کرنا پڑے۔

نصرت جاوید کی اس پوسٹ پر معروف صحافی ابصار عالم نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صحافت محض خبریں پہنچانے کا نام نہیں بلکہ ایک بہتر معاشرے کی امید اور عوامی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد بھی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ایک صحافی کا فرض نظام کو چلانا نہیں بلکہ اس کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے بہتر بنانے میں کردار ادا کرنا ہے۔

ابصار عالم نے مزید کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں جمہوری ادارے اور صحافت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اگر ان میں سے کوئی ایک کمزور ہو جائے تو دوسرا بھی متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق صحافی روبوٹ یا محض پیغام رساں نہیں ہوتے بلکہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری عوامی مفاد میں سچ کی تلاش اور احتساب کے عمل کو زندہ رکھنا ہے۔

ابصار عالم نے ایک اور پوسٹ میں صحافت کے اپنے 35 سالہ سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی نصرت جاوید کے احساسات کو سمجھتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ موجودہ حالات نے صحافیوں کے کردار اور اثرات کے بارے میں کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے بھی اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ صحافی کا کام کسی کا جج، جیوری یا جلاد بننا نہیں بلکہ حالات کی درست رپورٹنگ اور تجزیہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق صحافی صرف پیغام پہنچانے والے ہوتے ہیں، اس لیے انہیں خوف یا مایوسی کے بغیر اپنا پیشہ ورانہ فریضہ انجام دیتے رہنا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر دیگر صحافیوں، کالم نگاروں اور صارفین کی جانب سے بھی مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض نے نصرت جاوید پر زور دیا کہ اگر ان کے پاس اہم حقائق اور شواہد موجود ہیں تو انہیں تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ بنانا چاہیے، جبکہ کچھ نے مشورہ دیا کہ وہ اپنی یادداشتیں یا کتاب لکھیں تاکہ آنے والی نسلیں ان تجربات سے استفادہ کر سکیں۔

دوسری جانب بعض صارفین نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ حدود میں رہتے ہوئے رپورٹنگ اور تجزیے تک محدود رہنا چاہیے، جبکہ کچھ افراد نے نصرت جاوید کی مایوسی کو ملک کی مجموعی سیاسی اور صحافتی صورتحال کی عکاسی قرار دیا۔

نصرت جاوید کی پوسٹ اور اس پر آنے والے ردعمل نے ایک بار پھر یہ سوال نمایاں کر دیا ہے کہ پاکستان میں صحافت کا کردار، صحافیوں کی ذمہ داریاں، آزادیٔ اظہار اور سچ سامنے لانے کی حدود کہاں تک ہونی چاہئیں، اور کیا صحافی صرف واقعات کے راوی ہیں یا معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے بھی ان پر کوئی اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں