سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس: میڈیا ورکرز کے تحفظ، اشتہاری پالیسی، پی ٹی وی اصلاحات اور پرنٹ میڈیا کے استحکام پر اہم فیصلے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سرمد علی کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، سیکریٹری اطلاعات اشفاق احمد خلیل، چیئرپرسن پیمرا، پی آئی او، سی ڈی اے سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام اور کمیٹی اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں میڈیا ورکرز کے تحفظ، حکومتی اشتہاری پالیسی، ڈیجیٹل میڈیا، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی معاونت، پی ٹی وی کی مالی و انتظامی صورتحال، ریڈیو پاکستان، اے پی پی، نیشنل پریس ٹرسٹ اور فلم سنسرشپ سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ، مین اسٹریم میڈیا کے استحکام اور اشتہارات کی تقسیم میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024 کے تحت پہلی مرتبہ ڈیجیٹل میڈیا کے ویوز، امپریشنز، گوگل اینالیٹکس، ویب ٹریفک اور دیگر ڈیجیٹل اشاریوں کی آزاد تھرڈ پارٹی کے ذریعے تصدیق کا نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ اشتہارات کی تقسیم مکمل شفافیت کے ساتھ ہو سکے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا ایک بڑی حد تک خودکفیل شعبہ ہے، اس لیے حکومتی وسائل کا زیادہ حصہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو دیا جا رہا ہے کیونکہ ان اداروں کو مالی معاونت کی زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ڈیجیٹل میڈیا کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی قیمت پر فروغ نہیں دے سکتی کیونکہ آج بھی سوشل میڈیا کو بنیادی مواد اخبارات اور ٹیلی ویژن ہی فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت اخبارات کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024 کے تحت انہیں مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے بی سی (آڈٹ بیورو آف سرکولیشن) اور پریس رجسٹرار آفس کو ضم کر کے ایک جدید اور شفاف ادارہ قائم کرنے پر غور جاری ہے جبکہ اے بی سی کے نظام میں اصلاحات کے لیے کمیٹی پہلے ہی کام کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے میڈیا ملازمین کی فلاح و بہبود کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے ساتھ یہ طریقہ کار طے کیا ہے کہ جب بھی حکومت میڈیا ہاؤسز کو واجبات ادا کرے گی تو اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وہ رقم ملازمین کی تنخواہوں اور بقایاجات کی ادائیگی پر خرچ ہو۔

انہوں نے بتایا کہ سنو نیوز کی جانب سے ملازمین کو فارغ کیے جانے پر حکومت نے اس کے سرکاری اشتہارات روک دیے تھے، جس کے بعد انتظامیہ نے ملازمین کے بقایاجات ادا کیے اور متعدد ملازمین کو دوبارہ بحال کیا۔ انہوں نے آج ٹی وی کے ملازمین کے واجبات کے مسئلے کے حل کے لیے بھی حکومتی کوششوں کا ذکر کیا۔

عطاء اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے سامنے اہم تجویز پیش کی کہ اگر آئندہ کوئی میڈیا ادارہ ملازمین کو فارغ کرے یا ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کرے تو ایسے ادارے کے سرکاری اشتہارات کے ریٹس پر نظرثانی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر ان میں کمی بھی کی جائے۔ کمیٹی نے اس تجویز کی توثیق کی۔

وفاقی وزیر نے مزید تجویز دی کہ تمام میڈیا ادارے دوران ملازمت انتقال کرنے والے صحافی یا میڈیا ورکر کے اہل خانہ کے لیے لازمی مالی پیکیج مقرر کریں۔ انہوں نے کہا کہ شدید موسم اور مشکل حالات میں فرائض انجام دینے والے میڈیا ورکرز کے خاندانوں کو کسی حادثے یا وفات کے بعد بے سہارا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے میڈیا ملازمین کے لیے لائف انشورنس اسکیم تیار کرنے کا بھی اعلان کیا جس میں وفاقی حکومت انشورنس پریمیم میں اپنا حصہ ادا کرے گی۔ اس کے علاوہ میڈیا ملازمین کی ای او بی آئی اور سوشل سکیورٹی میں رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

پی ٹی وی کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ مالی طور پر مستحکم ادارہ بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت فیفا ورلڈ کپ کی نشریات پورے پاکستان میں صرف پی ٹی وی سپورٹس کے ذریعے دکھائی جا رہی ہیں جو ادارے کی مالی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی وی میں اس وقت تقریباً 216 ملازمین کنٹریکٹ کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں اور ادارے کی ضرورت کے مطابق ہی کنٹریکٹ پر بھرتیاں کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق پروگرامنگ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے نجی ٹی وی چینلز سے معروف اینکرز کو بھی پی ٹی وی کا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ تمام بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں اور امیدواروں کے تفصیلی انٹرویوز کیے گئے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی وی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز مکمل طور پر بااختیار ہے اور تمام فیصلے بورڈ کی منظوری سے کیے جاتے ہیں، جبکہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار افراد کو بھی بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

سیکریٹری اطلاعات اشفاق احمد خلیل نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پی ٹی وی میں نہ کسی ملازم کی تنخواہ اور نہ ہی کسی پنشنر کی پنشن کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے نے اپنے اخراجات کم کر کے تقریباً 300 ریٹائرڈ ملازمین، خصوصاً بیواؤں، کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جبکہ رواں سال پی ٹی وی اپنی ڈرامہ اور پروگرام پروڈکشن بھی دوبارہ شروع کرے گا۔

اجلاس میں نیشنل پریس ٹرسٹ کے کردار پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفاقی وزیر نے وزارت اطلاعات کو ہدایت کی کہ نیشنل پریس ٹرسٹ کے اثاثوں، مالی معاملات اور آڈٹ رپورٹس کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور میڈیا ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے ٹرسٹ کے وسائل استعمال کرنے کے قانونی امکانات کا جائزہ لیا جائے۔

ریجنل اخبارات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ علاقائی اخبارات کی حقیقی شناخت اور سرکولیشن کے تعین کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کی جائے جو اپنی رپورٹ پیش کرے۔

اجلاس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے اخبارات کو نوٹس جاری کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سرمد علی نے واضح کیا کہ این سی سی آئی اے کا مینڈیٹ اخبارات کو ان کے کالموں یا ادارتی مواد پر نوٹس جاری کرنا نہیں اور ادارے کو اس سے روک دیا گیا۔

فلم “بلھے” کی سنسر سرٹیفکیشن کا معاملہ بھی اجلاس میں زیر بحث آیا۔ سینیٹر پرویز رشید نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عظیم صوفی بزرگ حضرت بلھے شاہؒ کے نام پر تشدد اور جرائم پر مبنی فلم ریلیز نہیں ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ تحقیقات کی جائیں کہ سینسر بورڈ نے اس عنوان کی منظوری کیسے دی۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اخبارات کو مضبوط بنانے اور میڈیا لسٹ میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو علاقائی اخبارات کے مسائل کے حل پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے اے پی پی اور ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مسائل کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات کی رپورٹس طلب کر لیں جبکہ پی ٹی وی کالونی کے معاملے پر آئندہ اجلاس میں سی ڈی اے اور متعلقہ حکام کو طلب کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں