وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے 17 تا 18 جولائی منعقد ہونے والی پاک۔چین ہیلتھ انویسٹمنٹ کانفرنس کو صنعتی ترقی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دے دیا
اسلام آباد، 15 جولائی 2026: وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ 17 اور 18 جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی پاک۔چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس برائے فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بایوٹیکنالوجی صنعتی تعاون کے فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پاکستان کے صحت کے شعبے میں مقامی پیداوار کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ اس کانفرنس میں 146 ممتاز چینی کمپنیاں، جن کے تقریباً 220 نمائندے شرکت کریں گے، جبکہ 200 سے زائد پاکستانی کمپنیاں بھی شریک ہوں گی، جس کے باعث یہ فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والی سب سے بڑی کاروباری سرگرمیوں میں سے ایک ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا انعقاد وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کر رہی ہے، جبکہ بورڈ آف انویسٹمنٹ (BoI) اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کانفرنس کے سیکریٹریٹ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کانفرنس کے انتظامی امور اور آپریشنل مینجمنٹ کی ذمہ دار ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ یہ اقدام وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کے اس وژن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد صنعتی ترقی کو تیز کرنا، غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری میں اضافہ، مقامی پیداوار کا فروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کی صحت کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں چھ اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی جن میں ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء (APIs)، بایوٹیکنالوجی و ویکسینز، طبی آلات، جینیرک ادویات و انجیکٹ ایبلز، کلینیکل ٹرائلز و تحقیق، اور جڑی بوٹیوں پر مبنی و روایتی چینی ادویات (TCM) شامل ہیں۔
پاکستان کی صنعتی استعداد پر روشنی ڈالتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ اس وقت پاکستان اپنی فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے درکار تقریباً 90 فیصد خام مال درآمد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی سے مقامی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، درآمدی انحصار میں کمی آئے گی اور برآمدات کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان ورچوئل میچ میکنگ سیشنز، ویبینارز اور کاروباری روابط مسلسل جاری رہے ہیں، جن کے ذریعے دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں نے باہمی مفاد پر مبنی سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کی ہے۔ ان رابطوں کے نتیجے میں آٹھ ٹھوس معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کی نشاندہی ہو چکی ہے، جن پر کانفرنس کے دوران دستخط متوقع ہیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ کانفرنس کے دوران بی ٹو بی میچ میکنگ سیشنز اور ون ٹو ون کاروباری ملاقاتوں کا خصوصی اہتمام کیا جائے گا تاکہ پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی شراکت داری اور طویل المدتی صنعتی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ کانفرنس کے موقع پر ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET) فورم برائے اسکلز ڈویلپمنٹ بھی منعقد کیا جائے گا، جس کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان افرادی قوت کی ترقی، تکنیکی تعلیم اور مہارتوں کے فروغ میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیرِاعظم کی ہدایات پر کانفرنس کی تیاریوں کی نگرانی کے لیے وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار کی سربراہی میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی گئی۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ اب تک سات اسٹیئرنگ کمیٹی اجلاس وفاقی وزیر برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ کے ساتھ مشترکہ طور پر منعقد کیے جا چکے ہیں، جن میں کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا گیا اور کامیاب انعقاد کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی۔
ہارون اختر خان نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس سرمایہ کاری کے فروغ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی صنعت کی ترقی اور فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی، جس سے پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی اور صحت کے شعبے کی بہتری میں نمایاں مدد ملے گی۔