دیر اور بنوں میں دہشت گردوں کے حملے، فائرنگ و خودکش کارروائی میں جانی و مالی نقصان، سرچ آپریشن جاری

دیر اور بنوں میں دہشت گردوں کے حملے، فائرنگ و خودکش کارروائی میں جانی و مالی نقصان، سرچ آپریشن جاری

پشاور: خیبر پختونخوا کے اضلاع لوئر دیر اور بنوں میں دہشت گردوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے دو الگ الگ واقعات پیش آئے، جن میں پولیس اہلکار جاں بحق و زخمی ہوئے جبکہ متعدد دہشت گرد مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے دونوں علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق لوئر دیر کے پہاڑی علاقے لارام میں دہشت گردوں نے ایلیٹ پولیس فورس کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ شدید فائرنگ کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو اہلکار جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 13 پولیس اہلکار اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے دو اہلکار شامل ہیں۔ حملے میں پولیس کی ایک گاڑی تباہ ہو گئی۔

حملے کے فوراً بعد پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے۔

دوسری جانب ضلع بنوں کے علاقے میریان پولیس اسٹیشن کو بھی دہشت گردوں نے خودکش حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن کی جانب بڑھ رہی تھی، تاہم بروقت کارروائی کے دوران گاڑی پولیس اسٹیشن تک پہنچنے سے پہلے ہی دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں چار دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ دھماکے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دونوں حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیموں کی جانب سے قبول کرنے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
لوئر دیر، خیبر پختونخوا — 15 جولائی 2026

دیر کے پہاڑی علاقے لڑم میں پولیس اور فتنہ الخوارج کے درمیان شدید جھڑپ، 5 دہشتگرد ہلاک، متعدد زخمی

پولیس نے خفیہ اطلاع پر دیر کے پہاڑی علاقے لڑم میں فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں نے پولیس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

جوابی کارروائی میں 5 خوارج ہلاک، جبکہ جھڑپ کے دوران کچھ پولیس اہلکاروں کے جانی نقصان کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

فرار ہونے والے خوارج کی گرفتاری کے لیے سیکیورٹی فورسز نے پولیس کی معاونت کرتے ہوئے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے، جبکہ سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔

زخمی پولیس اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں 37 لاکھ بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور عالمی برادری کو انسانی بحران پر فوری توجہ دینی چاہیے۔

ادھر صدر مملکت آصف علی زرداری کے ترجمان نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

سکیورٹی فورسز نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

لوکل نمائندگان کے مطابق لوئر دیر *زخمی پولیس اہلکار*
1)مفتاح الدین 2244 پاوں پر زخمی
2) نصیب خان 5494 معمولی زخمی
3) ریحان اللہ 2058 معمولی۔زخمی
4)اصف خان CTD سینہ پر لگ کر زخمی ریفر ٹو پشاور
5)حبیب الحسن 2068 معمولی زخمی
6) امیر محمد 5449 معمولی زخمی
7)بخت بیدار 5717 معمولی زخمی
8)عزت اللہ 425 معمولی زخمی
9) محبوب علی 595 CTD معمولی زخمی
10)شہاب 831 دائیں ہاتھ روند پر زخمی
11)رازی محمد 1060 پاوں پر زخمی
12)جواد 8866 پاوں پر زخمی
13)نواب 2912 کھندہ پر زخمی
14)لقمان بہادر 1220 ران پر زخمی
15)محمد ندیم 2276 ران پر مخروش

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں