کسٹمز نے پارکو کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا، اربوں روپے مالیت کے پیٹرول کی ترسیل پر ضابطہ خلافزیوں کا الزام

کسٹمز نے پارکو کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا، اربوں روپے مالیت کے پیٹرول کی ترسیل پر ضابطہ خلافزیوں کا الزام

فیصل آباد: کلکٹریٹ آف کسٹمز (اپریزمینٹ) فیصل آباد نے پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو) کے خلاف مبینہ سنگین کسٹمز ضابطہ خلافزیوں پر کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق پارکو پر الزام ہے کہ اس نے فیصل آباد کے جھمرہ روڈ، گٹی میں قائم اپنے پبلک بانڈڈ ویئر ہاؤس سے Gas & Oil Pakistan Limited (GO) کو 2 کروڑ 38 لاکھ 9 ہزار 324 لیٹر (23,809,324 لیٹر) موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کسٹمز قوانین اور قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے فراہم کیا۔

نوٹس کے مطابق پارکو کو کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 12 اور کسٹمز رولز 2001 کے رول 343 کے تحت مذکورہ ویئر ہاؤس میں ہائی اسپیڈ ڈیزل اور موٹر اسپرٹ ذخیرہ کرنے کا لائسنس دیا گیا تھا، جبکہ کمپنی کو WeBOC سسٹم میں منفرد یوزر آئی ڈی بھی فراہم کی گئی تھی تاکہ سامان کی آمد و رفت، Ex-Bond Goods Declarations (GDs)، گیٹ اِن، گیٹ آؤٹ اور بانڈ ٹو بانڈ ٹرانسفرز قانون کے مطابق انجام دیے جا سکیں۔

شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 97 کے تحت بانڈڈ ویئر ہاؤس میں موجود سامان صرف قانونی کلیئرنس، برآمد یا مجاز ٹرانسفر کی صورت میں ہی باہر نکالا جا سکتا ہے، جبکہ دفعہ 99 کے مطابق ایک بانڈڈ ویئر ہاؤس سے دوسرے بانڈڈ ویئر ہاؤس منتقلی کے لیے کلکٹر کسٹمز کی پیشگی اجازت لازمی ہے۔ اسی طرح کسٹمز رولز 2001 کے رول 468 کے تحت ویئر ہاؤس لائسنس ہولڈر Ex-Bond GD کی مکمل تصدیق کے بعد ہی سامان فراہم کرنے کا پابند ہے۔

دستاویزات کے مطابق یکم جنوری سے 24 جون 2026 کے دوران GO کی موٹر اسپرٹ کلیئرنس کا ریکارڈ جانچنے پر انکشاف ہوا کہ پارکو نے متعدد مواقع پر Ex-Bond GD کی تصدیق کے بغیر پیٹرول فراہم کیا، جبکہ بعض معاملات میں WeBOC میں قانونی منظوری کے بغیر سامان دوسرے بانڈڈ ویئر ہاؤسز کو بھی منتقل کیا گیا۔

کسٹمز حکام کے مطابق بعض مواقع پر درآمد کنندہ کو اس وقت بھی سامان فراہم کیا گیا جب نہ Ex-Bond GD فائل کی گئی تھی اور نہ ہی متعلقہ کسٹمز ڈیوٹیز اور ٹیکس ادا کیے گئے تھے۔ ان مبینہ خلاف ورزیوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی وصولی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض معاملات میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) بھی غلط بنیادوں پر وصول کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

کسٹمز حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات 97، 99 اور 116، نیز کسٹمز رولز 2001 کے رول 468 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں، جو کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 156(1) کی شق 1، 58 اور 62 کے تحت قابل سزا جرم ہیں۔

ان الزامات کی بنیاد پر کلکٹریٹ آف کسٹمز (اپریزمینٹ) فیصل آباد نے پارکو کو جاری کردہ پبلک بانڈڈ ویئر ہاؤس لائسنس نمبر 04/BWH/PUB/2000 منسوخ کرنے کے لیے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے مقررہ مدت میں وضاحت طلب کر لی ہے۔

نوٹ: یہ الزامات کسٹمز حکام کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس پر مبنی ہیں۔ پارکو کا مؤقف یا جواب سامنے آنے پر خبر کو اس کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں