یہ فہرست سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہے، اور ویڈیوز سے یہ ضرور دکھائی دیتا ہے کہ مختلف غیر ملکی وفود کی آمد پر مختلف قرآنی آیات تلاوت کی گئیں۔ تاہم، ایک اہم بات یہ ہے کہ ایرانی حکومت نے سرکاری طور پر یہ نہیں کہا کہ ہر آیت جان بوجھ کر متعلقہ وفد کے لیے بطور سیاسی پیغام منتخب کی گئی تھی۔
البتہ متعدد مبصرین اور میڈیا اداروں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ آیات کا انتخاب غیر معمولی طور پر متعلقہ محسوس ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ ان کے ذریعے علامتی یا سفارتی پیغامات دیے گئے۔
آپ کی دی گئی مثالوں میں:
پاکستان کے لیے سورۂ بنی اسرائیل (17:80) کی دعا: “اے میرے رب! مجھے اچھے طریقے سے داخل کر اور اچھے طریقے سے نکال، اور اپنی طرف سے مجھے مددگار قوت عطا فرما۔” اس آیت کو بعض تجزیہ کاروں نے پاکستان کے ساتھ تعاون اور خیرسگالی کی علامت قرار دیا ہے۔
سعودی عرب کے لیے سورۂ آلِ عمران (3:13) کی تلاوت سب سے زیادہ زیرِ بحث رہی، کیونکہ بہت سے مبصرین نے اسے دونوں ممالک کے پیچیدہ تعلقات کے تناظر میں علامتی پیغام کے طور پر دیکھا۔
لہٰذا، یہ کہنا درست ہوگا کہ:
مختلف وفود کے سامنے مختلف آیات کی تلاوت واقع ہوئی۔
ان آیات کی سیاسی تعبیر وسیع پیمانے پر کی جا رہی ہے۔
لیکن یہ دعویٰ کہ حکومت نے باضابطہ طور پر ہر آیت کو مخصوص سیاسی پیغام کے طور پر منتخب کیا تھا، ابھی تک سرکاری طور پر ثابت یا تسلیم نہیں کیا گیا۔