کینیا کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کیس میں اپیل مسترد کر دی، غیر قانونی قتل قرار دینے کا فیصلہ برقرار، مگر کسی اہلکار کے خلاف کارروائی کا حکم نہ دیا

کینیا کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کیس میں اپیل مسترد کر دی، غیر قانونی قتل قرار دینے کا فیصلہ برقرار، مگر کسی اہلکار کے خلاف کارروائی کا حکم نہ دیا

اسلام آباد/نیروبی: کینیا کی سپریم کورٹ نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ان کی ہلاکت کینیا پولیس کے ہاتھوں ایک غیر قانونی قتل تھی اور یہ ان کے حقِ زندگی کی خلاف ورزی تھی۔ تاہم عدالت نے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی، معافی یا تشدد (Torture) قرار دینے کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ ارشد شریف کی ہلاکت آئین اور بین الاقوامی قانون کے تحت ان کے حقِ زندگی کی سنگین خلاف ورزی تھی، لیکن عدالت کے سامنے ایسا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ انہیں تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ کینیا کے ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشنز (DPP) کو کسی مقدمے میں استغاثہ چلانے یا نہ چلانے کا اختیار آئینی طور پر حاصل ہے، اس لیے سپریم کورٹ انہیں پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم نہیں دے سکتی۔ عدالت نے ہرجانے سے متعلق نچلی عدالت کا فیصلہ بھی برقرار رکھا اور کہا کہ اس معاملے میں مداخلت کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

ادھر ارشد شریف کی اہلیہ جاویریہ صدیق نے فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے ایک اور غم کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیا کی ہائی کورٹ پہلے ہی ارشد شریف کے قتل کو غیر قانونی اور حقِ زندگی کی خلاف ورزی قرار دے چکی تھی، لیکن آج بھی نہ کوئی گرفتاری ہوئی، نہ تحقیقات مکمل ہوئیں اور نہ ہی کسی کو جوابدہ ٹھہرایا گیا۔

جاویریہ صدیق نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے پاکستان میں بھی یہی صورتحال دیکھی اور اب کینیا میں بھی، جہاں پولیس اور عدلیہ مکمل طور پر آزاد نہ ہوں تو انصاف کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف پاکستان میں جان کے خطرات کے باعث کینیا گئے تھے، مگر 23 اکتوبر 2022 کو انہیں نیروبی کی مگاڈی روڈ پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اگرچہ یہ تسلیم کیا ہے کہ ارشد شریف کا قتل غیر قانونی تھا، مگر نہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا، نہ معافی کا، اور نہ ہی اسے تشدد قرار دیا۔ “ہمارے پاس عدالت کا فیصلہ تو ہے، مگر انصاف نہیں۔”

جاویریہ صدیق نے اعلان کیا کہ اب یہ مقدمہ دوبارہ کینیا کی کورٹ آف اپیل میں جائے گا اور وہ ارشد شریف کے لیے انصاف، سچائی اور احتساب کی جدوجہد ہر ممکن قانونی فورم پر جاری رکھیں گی۔

انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا، “میں تھک چکی ہوں، لیکن ارشد شریف کے لیے انصاف کی کوشش کبھی نہیں چھوڑوں گی۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں