ہری پور ون نمبر پلیٹ تنازعہ: عدالت نے راجہ شہاب سکندر زمان کے حق میں فیصلہ برقرار رکھا، حکومتِ خیبر پختونخوا اور دلاور خان کی اپیل مسترد

ہری پور ون نمبر پلیٹ تنازعہ: عدالت نے راجہ شہاب سکندر زمان کے حق میں فیصلہ برقرار رکھا، حکومتِ خیبر پختونخوا اور دلاور خان کی اپیل مسترد

ہری پور: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج-I ہری پور محمد جمیل خان نے گاڑی کے خصوصی رجسٹریشن نمبر “HARIPUR-1” سے متعلق اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے راجہ شہاب (شاداب) سکندر زمان کے حق میں سول جج-II ہری پور کے عبوری حکم کو برقرار رکھا، جبکہ حکومتِ خیبر پختونخوا اور دلاور خان کی جانب سے دائر سول اپیل خارج کر دی۔

2 جولائی 2026 کو سنائے گئے فیصلے کے مطابق مقدمہ Dilawar Khan vs Raja Shahab Sikandar & Others (Civil Appeal No. 66/14) کے عنوان سے زیرِ سماعت تھا۔ اپیل میں سول جج-II ہری پور کے 16 اپریل 2026 کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت مدعی کے حق میں عبوری حکمِ امتناعی جاری کیا گیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ “HARIPUR-1” رجسٹریشن نمبر پہلی مرتبہ 8 فروری 1992 کو ان کے نام الاٹ کیا گیا تھا۔ اس دعوے کے ثبوت کے طور پر رجسٹریشن بک، سالانہ ٹوکن ٹیکس کی رسیدیں اور دیگر سرکاری ریکارڈ عدالت میں پیش کیے گئے، جن سے بادی النظر میں ثابت ہوا کہ مذکورہ خصوصی نمبر قانونی طور پر انہی کے نام الاٹ ہوا تھا اور اس کی الاٹمنٹ کبھی منسوخ نہیں کی گئی۔

عدالت کے سامنے یہ بھی مؤقف رکھا گیا کہ یہ خصوصی نمبر ابتدا میں راجہ سکندر زمان کی مرسڈیز گاڑی کے نام رجسٹرڈ تھا، جسے بعد ازاں ان کے بیٹے راجہ شہاب (شاداب) سکندر زمان استعمال کرتے رہے، جبکہ سال 2026 تک اس نمبر کی ٹوکن ٹیکس بھی باقاعدگی سے ادا کی جاتی رہی۔

دوسری جانب اپیل کنندگان کا مؤقف تھا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا نے بعد ازاں یہی خصوصی رجسٹریشن نمبر دلاور خان، ساکن پنیاں، کو تقریباً 80 لاکھ روپے کے عوض الاٹ کیا۔ تاہم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپیل مسترد کرتے ہوئے نچلی عدالت کا عبوری حکم برقرار رکھا۔

راجہ شہاب (شاداب) سکندر زمان کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکیل خالد رحمان قریشی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے بظاہر یہ اصول مضبوط ہوتا ہے کہ اگر کسی خصوصی رجسٹریشن نمبر کی اصل الاٹمنٹ قانونی طور پر برقرار ہو، اسے کبھی منسوخ نہ کیا گیا ہو اور سرکاری ریکارڈ مسلسل اسی الاٹمنٹ کی تصدیق کرتا ہو، تو اسی نمبر کی کسی دوسرے شخص کے نام دوبارہ الاٹمنٹ عدالتی جانچ کے دائرے میں آ سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں