تعلیم کا جنازہ: بھینس کالونی روڈ نمبر 5 کے اسکول سے تمام دروازے، کھڑکیاں، بچوں کی ڈیسکیں، کرسیاں اور پنکھے تک چوری

تعلیم کا جنازہ: بھینس کالونی روڈ نمبر 5 کے اسکول سے تمام دروازے، کھڑکیاں، بچوں کی ڈیسکیں، کرسیاں اور پنکھے تک چوری

وزیراعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم، آئی جی سندھ اور تمام متعلقہ حکام فوری نوٹس لیں

عیدالاضحیٰ کے مبارک ایام میں جب مسلمان سنتِ ابراہیمی ادا کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانیاں پیش کر رہے تھے، اسی دوران بھینس کالونی روڈ نمبر 5، تھانہ سخن، ضلع ملیر میں واقع ایک سرکاری اسکول کے ساتھ ایسا افسوسناک اور شرمناک واقعہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو غم اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عید کی تعطیلات کے دوران نامعلوم افراد نے اسکول کی عمارت کو نشانہ بنایا اور وہاں موجود تقریباً تمام بنیادی سہولیات اکھاڑ کر چوری کر لیں۔ اسکول کے تمام دروازے، تمام کھڑکیاں، بچوں کے بیٹھنے کی ڈیسکیں، کرسیاں، صفائی عملے کی کرسیاں، برقی پنکھے اور دیگر سامان تک اتار کر مزدا گاڑی میں لوڈ کر لیا گیا۔

افسوس کی انتہا یہ ہے کہ اسکول کے دونوں مرکزی گیٹ، ایک بیرونی اور ایک اندرونی، بھی توڑ کر گاڑی میں لوڈ کر لیے گئے۔ یہ محض چوری کی واردات نہیں بلکہ ایک تعلیمی ادارے، بچوں کے مستقبل اور قوم کی امیدوں پر حملہ ہے۔

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) کے صدر شاکر عمر گجر کے لیے یہ واقعہ اس لیے بھی انتہائی تکلیف دہ ہے کیونکہ ان کی ابتدائی تعلیم بھی اسی سرکاری اسکول میں ہوئی۔ انہوں نے پانچویں جماعت تک اسی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کی۔ یہی وہ اسکول ہے جہاں سے علاقے کے بے شمار بچوں نے علم کی روشنی حاصل کی اور زندگی میں آگے بڑھنے کا سفر شروع کیا۔ آج اسی اسکول کو اس حالت میں دیکھنا نہ صرف ایک سابق طالب علم بلکہ پورے علاقے کے لیے باعثِ افسوس ہے۔

مقامی معززین اور ذمہ دار شہریوں نے مشکوک سرگرمی دیکھ کر بروقت مداخلت کی اور سامان سے بھری گاڑی کو روک لیا، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ اگر گاڑی اور سامان پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے تو یہ جاننا عوام کا حق ہے کہ ایف آئی آر میں کون نامزد ہے، اب تک کیا کارروائی ہوئی ہے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔

یہ سوال بھی انتہائی اہم ہے کہ ایک تعلیمی ادارہ کئی دنوں تک غیر محفوظ کیسے رہا؟ اسکول کی حفاظت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اور سرکاری املاک کو اس طرح لوٹنے کی جرأت کرنے والے عناصر کے خلاف اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے؟

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) کے صدر شاکر عمر گجر اور اراکینِ کمیٹی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور وزیراعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، متعلقہ ڈی آئی جی، ایس ایس پی ملیر، ڈپٹی کمشنر ملیر اور محکمہ تعلیم سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ہمارے مطالبات:

• واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔
• ملوث تمام افراد کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
• اسکول کا تمام چوری شدہ سامان برآمد کر کے واپس فراہم کیا جائے۔
• تمام دروازے، کھڑکیاں، مرکزی گیٹ، ڈیسکیں، کرسیاں، پنکھے اور دیگر سہولیات فوری طور پر بحال کی جائیں۔
• اسکول کی سیکیورٹی کے لیے مستقل اور مؤثر انتظامات کیے جائیں۔
• تحقیقات اور کارروائی کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔

یہ صرف دروازوں، کھڑکیوں یا فرنیچر کی چوری نہیں، بلکہ ہمارے بچوں کے خوابوں، ان کی تعلیم اور ان کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ اگر آج اس واقعے پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل کسی اور اسکول، کسی اور بچے اور کسی اور علاقے کا مستقبل بھی اسی طرح تاراج ہو سکتا ہے۔

تعلیم کی حفاظت دراصل قوم کے مستقبل کی حفاظت ہے۔

Farmer Save Pakistan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں