احمد بشیر: صحافت، ادب اور مزاحمت کا ایک عہد
پاکستان کی صحافتی، ادبی اور فکری تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جنہیں محض ایک پیشے یا ایک شناخت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ احمد بشیر بھی انہی نابغۂ روزگار لوگوں میں شامل تھے۔ وہ صحافی تھے، ادیب تھے، فلم ساز تھے، دانشور تھے اور سب سے بڑھ کر ایک ایسے قصہ گو تھے جن کی ذات اپنے اندر کئی دہائیوں کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تاریخ سموئے ہوئے تھی۔
سینئر صحافی سجاد منصور قیصرانی نے اپنے ایک تفصیلی فیس بک نوٹ میں احمد بشیر کی شخصیت اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے دنوں کی یاد تازہ کی ہے۔ یہ تحریر نہ صرف ایک فرد کی یادداشت ہے بلکہ پاکستان کی صحافتی تاریخ کے ایک اہم باب کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔
مساوات لاہور کا فکری مرکز
سجاد منصور قیصرانی لکھتے ہیں کہ 1970 کی دہائی کے اوائل میں جب انہوں نے روزنامہ مساوات لاہور میں ملازمت اختیار کی تو محمد صفدر میر ادارے کے ایڈیٹر تھے۔ ان کے بعد اگر کسی صحافی کا سب سے زیادہ اثر و رسوخ تھا تو وہ احمد بشیر تھے۔
اگرچہ ان کا سرکاری عہدہ واضح طور پر یاد نہیں، لیکن ادارے میں ان کی حیثیت عملی طور پر ڈپٹی ایڈیٹر جیسی تھی۔ وہ ایڈیٹوریل سیکشن کے مرکزی کمرے میں بیٹھتے تھے جہاں معروف ادیب اور صحافی ظہیر کاشمیری اور ریاض جاوید بھی موجود ہوتے تھے۔
احمد بشیر کبھی کبھار اداریے لکھتے تھے، لیکن ان کی بنیادی ذمہ داری مساوات کے ہفتہ وار ’’افرو ایشیا ایڈیشن‘‘ کی اشاعت تھی۔ اس خصوصی اشاعت میں ایشیا اور افریقہ کی آزادی کی تحریکوں، نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد اور ترقی پذیر اقوام کے مسائل کو اجاگر کیا جاتا تھا۔ قیصرانی کے مطابق احمد بشیر تقریباً اکیلے ہی اس پورے ایڈیشن کو مرتب کرتے، مضامین لکھتے اور اس کی لے آؤٹ تک خود تیار کرتے تھے۔
ایک ہمہ جہت شخصیت
احمد بشیر کی زندگی مختلف شعبوں میں بکھری ہوئی کامیابیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے ناول نگاری، افسانہ نویسی، خاکہ نگاری، کالم نویسی، صحافت، خط نگاری اور فلم سازی سمیت متعدد میدانوں میں کام کیا۔
قیام پاکستان سے قبل مختلف سرکاری ملازمتوں میں رہے، بمبئی میں معروف ادیب کرشن چندر کے گھر ادبی حلقوں کے درمیان وقت گزارا، بعد ازاں لاہور میں روزنامہ امروز اور مساوات جیسے اخبارات سے وابستہ رہے۔
کراچی میں محکمہ اطلاعات، ولیج ایڈ اور ریڈیو پاکستان کے لیے خدمات انجام دیں۔ اسی دوران انہیں امریکہ میں فلم سازی کی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ وطن واپسی پر انہوں نے اپنی پہلی اور واحد فیچر فلم ’’نیلا پربت‘‘ بنائی، جو تجارتی طور پر کامیاب نہ ہو سکی، لیکن اس فلم نے ان کے اندر موجود تخلیقی فلم ساز کی شناخت کو ہمیشہ زندہ رکھا۔
صحافت ان کی اصل پہچان
اگرچہ انہوں نے کئی شعبوں میں کام کیا، لیکن صحافت ان کی زندگی کا مرکزی حوالہ رہی۔ وہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں یکساں مہارت سے لکھتے تھے۔ ان کی تحریروں میں ادبی چاشنی، سیاسی شعور اور انسانی ہمدردی نمایاں ہوتی تھی۔
ان کی صحافت محض خبر رسانی نہیں بلکہ ایک نظریاتی وابستگی کا اظہار تھی۔ وہ معاشرتی ناانصافی، استحصال اور آمریت کے خلاف ہمیشہ واضح مؤقف رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تحریریں مختلف ادوار میں پابندیوں اور دباؤ کا شکار بھی بنتی رہیں۔
قصہ گوئی کا بے مثال فن
احمد بشیر کی ایک نمایاں خصوصیت ان کی غیر معمولی قصہ گوئی تھی۔ ان کا دفتر ہمیشہ سیاست دانوں، ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں سے بھرا رہتا تھا۔
قیصرانی کے مطابق بابائے سوشلزم شیخ رشید احمد اور خورشید حسن میر سمیت کئی اہم سیاسی شخصیات ان کے پاس آتی رہتی تھیں۔ مگر ان کی محفلوں کی اصل کشش ان کے قصے ہوتے تھے۔
وہ بمبئی میں کرشن چندر کے ساتھ گزارے دنوں، ریڈیو پاکستان، ولیج ایڈ، محکمہ اطلاعات اور روزنامہ امروز کے تجربات اس انداز سے بیان کرتے کہ سننے والے گھنٹوں محو رہتے۔ ان کے قصے محض دلچسپ واقعات نہیں ہوتے تھے بلکہ پاکستان کی سیاسی، ادبی اور سماجی تاریخ کے زندہ اسباق ہوتے تھے۔
قیصرانی لکھتے ہیں کہ احمد بشیر کی محفل میں بیٹھنا گویا ایک ایسے غیر رسمی لیکچر میں شرکت کرنا تھا جہاں وہ حقائق بیان ہوتے تھے جو نصابی کتابوں میں نہیں ملتے۔
نوجوان صحافیوں کے سرپرست
احمد بشیر نوجوان صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ سجاد منصور قیصرانی کے مطابق وہ ان سے خاص شفقت سے پیش آتے اور اکثر کہتے:
“تم ابھی پڑھ رہے ہو، تمہیں بہت کام کرنا ہے۔ ہمارے ساتھ بیٹھ کر نکمے ہو جاؤ گے، جاؤ اپنا کام کرو۔”
یہ جملے ان کی شخصیت کے ایک اہم پہلو کو نمایاں کرتے ہیں۔ وہ محض استاد نہیں تھے بلکہ نئی نسل کو آگے بڑھتے دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے۔
سٹیٹ فلم اتھارٹی اور ادھورا خواب
فلم سازی کا شوق احمد بشیر کے دل میں ہمیشہ زندہ رہا۔ 1977 کے انتخابات سے قبل جب ذوالفقار علی بھٹو نے اسلم اظہر کو پی ٹی وی سے ہٹا کر نئی قائم ہونے والی سٹیٹ فلم اتھارٹی کا وائس چیئرمین مقرر کیا تو احمد بشیر کو اس ادارے کا ڈائریکٹر جنرل بنایا گیا۔
وفاقی وزیر عبدالحفیظ پیرزادہ اس اتھارٹی کے چیئرمین تھے اور مقصد پاکستان میں فلمی صنعت کو فروغ دینا تھا۔
اسلام آباد میں قائم اس دفتر میں قیصرانی نے احمد بشیر کو قریب سے دیکھا۔ ان کے مطابق وہ سرکاری رکاوٹوں اور بیوروکریٹک پیچیدگیوں کے باوجود کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے پُرعزم تھے، مگر بھٹو حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی سٹیٹ فلم اتھارٹی بھی ختم کر دی گئی اور ان کا یہ خواب ادھورا رہ گیا۔
مزاحمت کا استعارہ
اس کے بعد احمد بشیر دوبارہ صحافت میں واپس آئے۔ انہوں نے مختلف اخبارات کے لیے لکھا، جن میں جنگ، مسلم، سٹار، نیوز اور دیگر شامل تھے۔ لیکن ان کے نظریاتی مؤقف اور بے باک تحریروں کی وجہ سے اکثر ان پر پابندیاں لگتی رہیں۔
زندگی کے آخری برسوں میں انہوں نے انگریزی روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ میں کالموں کی ایک اہم سیریز لکھی۔ ان تحریروں کے باعث انہیں اور اخبار دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر وہ عملی طور پر گوشہ نشین ہو گئے، لیکن اپنے نظریات سے کبھی دستبردار نہیں ہوئے۔
ایک عظیم مگر کم قدر شخصیت
سجاد منصور قیصرانی اپنی یادداشت کا اختتام ایک جذباتی جملے پر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگر ہمارا تعلق ایک حقیقی معنوں میں آزاد قوم سے ہوتا تو احمد بشیر ہمارے بڑے قومی ہیروز میں شمار ہوتے۔
یہ بات محض ایک دوست یا شاگرد کی عقیدت نہیں بلکہ اس حقیقت کی نشاندہی ہے کہ احمد بشیر جیسے لوگ کسی ایک اخبار، ایک سیاسی جماعت یا ایک ادبی حلقے کی ملکیت نہیں ہوتے۔ وہ ایک پورے عہد کی نمائندگی کرتے ہیں۔
احمد بشیر نے اپنی زندگی میں صحافت، ادب، فلم اور فکر کے میدانوں میں جو نقوش چھوڑے، وہ آج بھی پاکستان کی فکری تاریخ کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی شخصیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل صحافت صرف خبر لکھنے کا نام نہیں بلکہ سچ بولنے، سوال اٹھانے اور تاریخ کو محفوظ رکھنے کا عمل بھی ہے۔
ہ
احمد بشیر کی سب سے بڑی شناخت اگرچہ صحافت، ادب اور فکری سرگرمیاں تھیں، لیکن ان کا خاندان بھی پاکستان کے ثقافتی اور ادبی منظرنامے میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ایک ایسے گھرانے کے سربراہ تھے جس نے فن، ادب، صحافت اور نشریات کے شعبوں میں گہرے نقوش چھوڑے۔
ان کی بیٹیوں میں Bushra Ansari پاکستان کی معروف اداکارہ، میزبان، گلوکارہ اور مصنفہ ہیں، جبکہ Asma Abbas بھی ڈرامہ اور ٹیلی وژن کی دنیا کا ایک بڑا نام ہیں۔ ان کی ایک اور بیٹی Sumbul Shahid تھیں جنہوں نے اداکاری اور موسیقی کے میدان میں شہرت حاصل کی۔ ادبی دنیا میں ان کی بیٹی Neelam Bashir اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔
احمد بشیر کے صاحبزادے Humayun Sheikh بھی میڈیا اور تخلیقی شعبوں سے وابستہ رہے۔ یوں احمد بشیر کا گھر محض ایک خاندان نہیں بلکہ پاکستان کی ادبی، صحافتی اور ثقافتی روایت کا ایک اہم مرکز بن گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ احمد بشیر نے اپنی اولاد کو صرف نام ہی نہیں دیا بلکہ انہیں علم، مطالعہ، فن اور آزاد سوچ کی وہ روایت بھی منتقل کی جس کا عکس ان کی اگلی نسلوں کے کام میں نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی احمد بشیر کا نام لیا جائے تو ان کی اپنی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی اولاد کی کامیابیاں بھی ان کے فکری اور تربیتی ورثے کی گواہی دیتی ہیں