قومی اسمبلی کا بجٹ 2026,27 اجلاس 5 جون شام 5 بجے طلب

☔ *🇵🇰 قومی اسمبلی کا بجٹ 2026,27 اجلاس 5 جون شام 5 بجے طلب* 📝

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی کا اہم اجلاس 5 جون 2026کو شام 5 بجے طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی پیشکش، مالیاتی پالیسیوں، ٹیکس اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔

پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ اس میں مہنگائی پر قابو پانے، عوامی ریلیف پیکجز اور مختلف شعبوں کے لیے فنڈز کی تقسیم کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اپوزیشن کی جانب سے بھی اجلاس میں بھرپور بحث اور ممکنہ احتجاج کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکومتی اقتصادی ٹیم اجلاس کے دوران معاشی صورتحال، آئی ایم ایف پروگرام کی پیش رفت اور آئندہ اہداف پر ایوان کو اعتماد میں لے گی۔

یہ خبر مختلف میڈیا رپورٹس اور ابتدائی پارلیمانی ذرائع کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ حتمی تفصیلات سرکاری اعلامیے اور قومی اسمبلی کی کارروائی کے بعد تبدیل ہو سکتی ہیں۔ 🍁
قومی بجٹ اور کچھ حقائق :
جب قومی بجٹ قریب آ تا ھے ملازمین کی دھائی شروع ھو جاتی ھے تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے ۔حکومت بھی بلا تامل پورے ملک کو سرکاری ملازمین کا ملک سمجھ کر خاطر خواہ اضافے کا اعلان کر کے ملازمین کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ھے۔مہنگائی کے لحاظ سے ملازمین۔ اور پینشنرز کا مطالبہ جائز بھی ھےلیکن یہ بات سمجھنے کی ضرورت ھے کہ ھمارے ملک پاکستان میں عوام 100 فی صد سرکاری ملازم نہیں بلکہ ملک کے اندر بے روزگارافراد کی تعداد بہت زیادہ ھے جو مہنگائی افراط زر اور بے روزگاری اور غربت سے براہ راست متاثر ھے ھمارے ملک میں اکثر لوگ دو وقت کا کھانا مشکل سے میسر کرتے ھیں اور بعض کو تو دووقت کی روٹی ملنا مشکل ھے۔غربت کی چکی میں پستی عوام کے لئیے اگر حقیقی معنوں میں سوچا جائے تو تنخواھیں بڑھانے کے بجائے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اس حد تک کمی کی جائے کہ عام آ دمی کی پہنچ سے دور نہ ھوں ۔ملک میں بے نظیر انکم سپورٹ کے نام پر کھربوں روپے دئیے جاتے ھیں اس پروگرام کا منفی پہلو یہ ھے کہ ایک طرف اس سے 100 فی صد مستحقین مستفید نہیں ھوتے دوسرا منفی پہلو یہ ھے کہ لوگوں بالخصوص خواتین کو بھکاری سمجھ کر ٹریٹ کیا جاتا ھے نیز اس پروگرام پر آ س رکھ کرلوگوں میں سستی کاھلی کو فروغ ملا ھے اگر یہی رقم ملک کے اندر انڈسٹریز کی ترقی پر لگا دی جائے اور لوگوں کو ھنر مند بنایا جائے تولوگوں کی استعداد کار میں اضافہ بھی ھو گا اور ملک ترقی بھی کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ھے کہ ھم اپنے ملک کی غریب عوام کو سمجھنے سے آ ج تک قاصررھے ھیں ھماری سطحی سوچ نے ملک کو غربت کی دلدل سے نکلنے نہ دیا۔ھمارے ملک میں غربت کی ایک اور بنیادی وجہ معاشی عدم مساوات ھے۔جب آ پ کسی طبقہ کی خواھشات کو مدنظر رکھ کر قومی بجٹ تیار کرتے ھیں تو اس کے مقابل ایک اور طبقہ برسر پیکار احتجاج پر ھوتا ھے نتیجہ یہ ھے کہ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ھوگا اور ملک کے اندرسیاسی عدم استحکام بھی ھو گا۔کیوں نہ ھم تمام طبقاتی خدشات کو ختم کرتے ھوئے ملک اور ملکی عوام کی ضروریات کو با آسانی پوری کرنے والا بجٹ پیش کریں جسے قومی بجٹ کانام بھی دیا جانا جائز ھو ۔
نذیر کاظمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں