افغانستان کے سابق صدر Ashraf Ghani نے عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک تفصیلی پیغام جاری کرتے ہوئے افغانستان کی موجودہ صورتحال، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، طالبان حکومت کی پالیسیوں اور علاقائی استحکام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے افغانستان کو “غیر معمولی تنہائی” کا شکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اب افغانستان کو ایک ہمسایہ ملک کے بجائے سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
اشرف غنی نے کابل، پکتیکا، خوست، ننگرہار، قندھار اور کنڑ سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والے دھماکوں اور حملوں میں جاں بحق افراد کے خاندانوں سے اظہار تعزیت بھی کیا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے بھی خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو علامہ اقبال کے نظریے کے مطابق عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جائے کیونکہ “ایشیا کا استحکام اس کے قلب یعنی افغانستان کے استحکام سے جڑا ہوا ہے”۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر سابق اقوام متحدہ اہلکار اور تجزیہ کار استاد بمرک کی ایک پوسٹ نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اشرف غنی حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات سے لبنان منتقل ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اشرف غنی کو مبینہ طور پر ان کے لبنانی برادرانِ نسبتی ریاض سعادہ اور فواد سعادہ بیروت لے گئے۔
ان دعوؤں میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی سکیورٹی حکام کو اس پیش رفت کا پیشگی علم نہیں تھا اور بیروت اشرف غنی کی “حتمی منزل” ہے جہاں وہ زیادہ آزادانہ سیاسی و سماجی رابطے بحال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان اطلاعات کی کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد United Arab Emirates نے اشرف غنی اور ان کے خاندان کو انسانی بنیادوں پر پناہ دی تھی۔ اس وقت علاقائی سفارتی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ یو اے ای نے اشرف غنی کی میزبانی اس یقین دہانی کے ساتھ کی تھی کہ وہ طالبان حکومت کے خلاف منظم سیاسی سرگرمی یا ایسی مہم نہیں چلائیں گے جو کابل حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرے۔
مبصرین کے مطابق حالیہ بیان اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ اشرف غنی دوبارہ سیاسی طور پر متحرک ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں ایران اور خلیجی ممالک تک کشیدگی پھیل چکی ہے اور افغانستان ایک مرتبہ پھر علاقائی سیاست کے مرکز میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔
طالبان حکومت یا متحدہ عرب امارات کی جانب سے تاحال ان خبروں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں