*وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امن کےلیے ایرانی شرائط پاکستان کو پیش کردیں*
عباس عراقچی مختصر دورے کے بعد اسلام آباد سے ماسکو کےلیے روانہ ہوگئے ہیں، انہوں نے اس دوران پاکستانی سیاسی و عسکری حکام سے اہم ملاقاتیں کیں
پاکستان میں ایران کے سفیر نے ایکس میں ایک بیان میں کہا
ایرانی وفد کے دورے کے اس دور کے اختتام پر، H.E. پاکستان کے عزت مآب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے علاقائی سفارتی دورے کے آغاز پر جو دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے اور علاقائی پیشرفت کے معاملے پر مشاورت کے مقصد سے کیا گیا تھا، میں پاکستان کی حکومت، فوج اور عوام بالخصوص HH کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ کے خاتمے اور خطے میں دیرپا امن لانے کے لیے ان کی انتھک کوششوں اور اچھے عہدے کے اقدام پر مبارکباد دی۔
گزشتہ راؤنڈ کی طرح یہ راؤنڈ بھی وفد کے لیے مکمل سیکیورٹی، حفاظت اور سکون کے ساتھ منعقد کیا گیا جو برادر، دوست اور پڑوسی ملک پاکستان کی جانب سے قابل اور بہترین انتظام، سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی اور کامیاب عمل درآمد سے حاصل کیا گیا۔
یہاں میں آرمی کے عملے، سیکورٹی فورسز، پولیس، تمام انتظامی اداروں کے ملازمین اور خاص طور پر پاکستان کے معزز لوگوں اور اسلام آباد کے رہائشیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے اس عرصے کے دوران صبر، مہمان نوازی اور تعاون پر مبنی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔
ایران پاکستان دوستی زندہ
ایران کسی دباؤ میں آکر مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا، ایرانی صدر کی وزیر اعظم شہباز شریف سے گفتگو*
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کسی دباؤ میں آکر امن مذاکرات نہیں کرے گا
ایران کے نیم سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ تہران دباؤ، دھمکیوں یا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے تحت امن مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا
پیزشکیان نے فون کال کے دوران ایران کے موقف کی توثیق کی اور اس بات پر زور دیا کہ ایران جبر کی شرائط پر مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا
ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سمیت امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی بھی سفارش کی
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد آمد
اسلام آباد کی سیکیورٹی ہائی الرٹ
آج ہی حکومت نے فیض آباد کے علاوہ تمام بس اڈے، ہیوی ٹریفک کھولنے کا اعلان کیا تھا
جس کے بعد ایک ہفتے سے بند جڑواں شہروں کاروبار بھی کھل گیا تھا مگر پھر اچانک سب بند کروا دیا گیا
مگر یونیورسٹی طلبا و طالبات ابھی تک انتظار میں ہیں کہ کل یونیورسٹی کھلے گی یا نہیں؟
انتظامیہ کو اپنے فیصلے سے عوام کو آگاہ کرنا چاہیے تاکہ مستقبل کے معماروں کو پریشانی کا سامنا نہ ہو