اسلام آباد جانے والی پرواز میں محمد باقر قالیباف اکیلے نہیں تھے۔*

🌏 *اسلام آباد جانے والی پرواز میں محمد باقر قالیباف اکیلے نہیں تھے۔*
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ایکس پر ایک تصویر لگائی۔ طیارے کی خالی نشستوں پر بچوں کی تصویریں رکھی ہوئی ہیں۔ ہر تصویر کے ساتھ ایک سفید پھول۔ قالیباف کھڑے ہیں۔ سر جھکا ہوا ہے۔ نیچے لکھا ہے: “اس پرواز میں میرے ساتھی۔
میناب۔ ایران کا ایک ساحلی شہر جہاں امریکی میزائل حملے میں سکول شجرہ طیبہ کے بچے اور بچیاں ماری گئیں۔ 168 ۔ وہ بچے اور بچیاں جو آج زندہ ہوتے تو سکول جا رہی ہوتے۔ ان کی نشستیں خالی ہیں۔ ان کی تصویریں بیٹھی ہیں۔ سفید پھول رکھے ہیں۔ اور ایران کا سب سے طاقتور سیاسی آدمی ان خالی نشستوں کے سامنے سر جھکائے کھڑا ہے۔
یہ تصویر مذاکرات سے پہلے آئی ہے۔ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے۔قالیباف نے دنیا کو بتایا ہے کہ وہ اسلام آباد خالی ہاتھ نہیں جا رہا۔ وہ 168 بچوں کو ساتھ لے کر جا رہا ہے۔ وہ بچے جو بول نہیں سکتے مگر جن کی خاموشی ہر لفظ سے بھاری ہے۔
مذاکرات کی میز پر جب وینس، وٹکاف اور کشنر بیٹھیں گے تو سامنے غالیباف ہو گا۔ مگر غالیباف کے پیچھے 168 خالی نشستیں ہوں گی۔ سفید پھولوں والی، بچیوں کی تصویروں والی۔
بعض دلائل الفاظ سے دیے جاتے ہیں۔ بعض خاموشی سے اور بعض خالی نشستوں سے۔ ہلکے جنازے سب سے بھاری ہوتے ہیں. یہ اگلے دو دن کے تاریخی مذاکرات کے حوالے سے بھی ایک واضح بیان ہے کہ ایرانی اپنے شہیدوں کو بھولنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا سودا کیا جائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں