اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں جناح میڈیکل کمپلیکس اور دانش یونیورسٹی کے منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعمیراتی کام کے لیے بہترین معیار کی حامل کمپنیوں کی خدمات حاصل کی جائیں، ادائیگی تھرڈ پارٹی تصدیق کے بعد کی جائے، متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیئے تاکہ کوئی حقدار محروم نہ رہے اور غیر مستحق فائدہ نہ لے جائے ، اس میں کوئی سیاست نہیں ہوگی۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں جناح میڈیکل کمپلیکس اور دانش یونیورسٹی کی سائیٹس کے دورے کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری ،وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔وزیراعظم کو دونوں منصوبوں کی تعمیر سے متعلق مختلف امور پر بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ تعمیراتی کام کے لیے بہترین معیار کی حامل کمپنیوں کی خدمات حاصل کی جائیں، اس کے لیے پری کوالیفکیشن ہونی چاہئے،ادائیگی تھرڈ پارٹی تصدیق کے بعد کی جائے، جن لوگوں سے زمین حاصل کی جائے انہیں ادائیگی کے دوران کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہئے، گوگل سے بھی اس کی میپنگ کی جائے تاکہ کوئی حقدار محروم نہ رہے اور غیر مستحق غلط فائدہ نہ لے جائے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی سیاست نہیں ہوگی، تمام عمل شفاف اور منصفانہ طریقے سے مکمل ہونا چاہئے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی وزیر پاور ڈویژن اور وفاقی وزیر پٹرولیم کی زیر نگرانی یہ منصوبہ مکمل ہونا چاہئے اور وہ اس کی ذاتی طور نگرانی کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس اور دانش یونیورسٹی کی مینجمنٹ سمیت تمام معاملات ڈیجیٹائز ہونے چاہئیں اور عالمی معیار کا پیپر لیس اور فیس لیس نظام ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی عمل میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے،سڑکوں کی تعمیر میں معیاری کام کو یقینی بنایا جائے اور ہارٹیکلچر کا بھی پلان اس میں شامل ہونا چاہئے۔قبل ازیں چیئرمین سی ڈی اے نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ماہرین کی مشاورت سے پی سی ون تیار کیا گیا ہے،ایچ 16 سیکٹر انسٹیٹیوشنل سیکٹر ہے،سرینگر ہائی وے کے ساتھ اس سیکٹر میں جناح میڈیکل کمپلیکس اور دانش یونیورسٹی کے دو بڑے منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں۔جناح میڈیکل کمپلیکس کے لیے 600 کنال اور دانش یونیورسٹی کے لیے 800 کنال زمین مختص کی گئی ہے، اس کے ساتھ ساتھ کمرشل سیکٹر کے لئے 200 کنال مختص کی گئی ہے، اس کے علاوہ اسلام آباد ماڈرن جیل کا منصوبہ بھی یہاں مکمل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سرینگر ہائی وے انٹرچینج کی تعمیر کے لیے این ایچ اے کام کر رہا ہے، واٹر سپلائی کے لیے بھی کام شروع ہو چکا ہے، دو ماہ میں یہ کام مکمل ہو جائے گا۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس اور دانش یونیورسٹی میں بجلی، گیس اور انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی کا پلان تیار کر لیا گیاہے،ٹاور اور گرڈ کے لیے جگہ کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔