ترنول پولیس پر چوری کے مقدمے میں نامزد ملزمہ کی گرفتاری میں تاخیر کا الزام، بزرگ ریٹائرڈ سرکاری افسر انصاف کے منتظر
اسلام آباد کے سیکٹر ایف 15/1 میں گھر کی صفائی کے لیے رکھی گئی خاتون پر مبینہ طور پر سونا اور نقدی چوری کرنے کا الزام ہے، تاہم مقدمہ درج ہونے کے باوجود ملزمہ کی گرفتاری نہ ہونے پر متاثرہ بزرگ جوڑے نے پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
متاثرہ ریٹائرڈ سرکاری افسر کے مطابق واقعہ 12 ستمبر کو پیش آیا، جب گھر میں کام کرنے والی خاتون مبینہ طور پر سونے کا ایک کڑا، دو انگوٹھیاں اور 25 ہزار روپے نقد لے کر چلی گئی۔ متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ درخواست دینے کے باوجود پولیس نے فوری کارروائی نہیں کی اور بالآخر 5 اکتوبر کو مقدمہ درج کیا گیا۔
شہری کے مطابق ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بھی ملزمہ کو گرفتار نہیں کیا جا سکا، جبکہ ان کے بقول وہ علاقے میں آزادانہ گھوم رہی ہے۔ متاثرہ خاندان نے تھانہ ترنول اور صدر زون پولیس کی کارروائی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں انصاف کے حصول کے لیے بار بار تھانے کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔
متاثرہ شہری نے بتایا کہ ان کی اہلیہ شدید علیل اور بستر پر ہیں، جس کے باعث انہیں علاج اور دیکھ بھال کے بجائے پولیس اسٹیشنوں کے چکر لگانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال نے بزرگ جوڑے کو شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
متاثرہ شہری نے آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی اسلام آباد، ایس ایس پی آپریشنز اور وزیر داخلہ سے اپیل کی ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، مقدمے میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے، مبینہ غفلت کی تحقیقات کرائی جائیں اور قانون کے مطابق ملزمہ کی گرفتاری اور چوری شدہ سامان کی برآمدگی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
متاثرہ شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کے اندراج میں تاخیر اور گرفتاری نہ ہونے کی وجوہات سامنے لائی جائیں تاکہ انہیں انصاف مل سکے۔