بشیداس زیرو پوائنٹ پر جی بی اسکاؤٹس کی گاڑی پر فائرنگ، دو پولیس اہلکاروں سمیت 3 جوان زخمی، وزیراعلیٰ کا سخت نوٹس
گلگت: بشیداس زیرو پوائنٹ کے قریب شاہراہ قراقرم (KKH) پر نامعلوم مسلح افراد نے جی بی اسکاؤٹس کی پٹرولنگ گاڑی پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں دو ایس ایس یو پولیس اہلکار اور جی بی اسکاؤٹس کا ایک جوان زخمی ہوگیا۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی گلگت بلتستان اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لیے بھرپور کارروائی کی ہدایت کردی۔
وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے 27 ستمبر کو جاری پریس ریلیز کے مطابق واقعہ رات تقریباً 9 بج کر 35 منٹ پر شیر نالہ کے قریب KKH بشیداس زیرو پوائنٹ پر پیش آیا، جہاں پہاڑی کی جانب سے 116 ونگ جی بی اسکاؤٹس کی پٹرولنگ گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر بشیداس ایف ڈبلیو او ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں آر ایچ کیو ہسپتال چلاس روانہ کردیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے آئی جی گلگت بلتستان کو واقعے کی فوری، جامع اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنے، حملہ آوروں کی شناخت کے لیے جدید تفتیشی ذرائع اور انٹیلی جنس معلومات بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے حملے کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کا سراغ لگانے اور ملوث تمام عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ ملزمان کی گرفتاری میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کمشنر دیامر، ڈپٹی کمشنر دیامر اور ڈی ایچ او دیامر کو زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے، ان کے علاج کی ذاتی نگرانی کرنے اور ضرورت پڑنے پر اعلیٰ طبی مرکز منتقل کرنے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے بشیداس، شیر نالہ اور ملحقہ علاقوں میں سرچ و کومبنگ آپریشنز، نگرانی اور سیکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنانے اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیا۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، تاہم انہیں قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ حملہ آوروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے ان کی خدمات اور بہادری کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ریاست اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیراعلیٰ نے آئی جی گلگت بلتستان سے واقعے کی تحقیقات، ملزمان کی گرفتاری اور کارروائی میں پیش رفت سے متعلق فوری رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔