دہشت گردی کے خلاف بند کمروں کی پالیسیاں 22 سال سے ناکام، 100 دن میں عملی تبدیلی لا سکتے ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
ڈیرہ اسماعیل خان: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکار، فوجی جوان اور عام شہری اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، گزشتہ روز درازندہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں کئی پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہوئے، خیبر پختونخوا کو ایک بار پھر لہو لہان کرنے اور دہشت گردی مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بند کمروں میں بننے والی پالیسیاں 22 سال سے کارآمد ثابت نہیں ہوئیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہماری پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں عملی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کی واپسی کے خدشات پر ہم پہلے ہی امن پاسون کر چکے تھے اور مسلسل آواز اٹھاتے رہے کہ ایک بار پھر پختونوں کے سروں کا سودا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھنے والا فوجی جوان شہید ہو تو وہ ہمارا اپنا ہے، پولیس اہلکار اور عام شہری کسی بھی فرقے، صوبے یا وردی سے تعلق رکھتے ہوں، وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ہماری تنقید کسی نشست یا عہدے کی محتاج نہیں۔ خیبر پختونخوا کا نوجوان جانتا ہے کہ دہشت گردی واپس لانے والی پالیسیوں سے کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ہمیں اپنا امن پیارا ہے اور خیبر پختونخوا کے لوگ اپنے شہداء کے جنازے اٹھا رہے ہیں، اس تکلیف کا ہمیں بخوبی احساس ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرکے امن و امان کے لیے 35 ارب روپے مختص کیے، جبکہ مالی سال 2026-27 میں پولیس کے لیے 191.4 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 103 فیصد زیادہ ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک امن نہیں آئے گا، اس وقت تک ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی اداروں کو ادائیگیاں کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا کو بکتر بند گاڑیاں (اے پی سیز) اور دیگر مطلوبہ آلات فراہم نہیں کیے جا رہے، متعلقہ ادارے اس عمل کو تیز کریں تاکہ پولیس کو ضروری وسائل میسر آ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت سنجیدہ ہے، تاہم صوبائی حکومت اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ 22 بڑے آپریشنز اور 14 ہزار چھوٹے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے صوبائی حکومت اور عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ نفرتیں پھیلانے والی زبان پاکستان کو تقسیم کرنے کا باعث بن رہی ہے، ہمیں باہمی اتحاد اور امن کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔