### درازندہ امن میلہ چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 11 افراد شہید، 30 سے زائد زخمی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا انسدادِ دہشتگردی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ
ڈیرہ اسماعیل خان میں انسدادِ اسمگلنگ مشترکہ چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی کا حملہ، شہداء میں 6 پولیس اہلکار، 2 کسٹمز اہلکار، 2 خواتین اور ایک دو سالہ بچہ شامل، ریسکیو 1122
پشاور/ڈیرہ اسماعیل خان (26 ستمبر 2026) ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ کے قریب انسدادِ اسمگلنگ کے لیے قائم پولیس، کسٹمز، ایکسائز اور محکمہ جنگلات کی مشترکہ چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش حملے کے نتیجے میں 11 افراد شہید جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق جائے وقوعہ سے 11 افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرکے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بارود سے بھری گاڑی (وی بی آئی ای ڈی) مشترکہ چیک پوسٹ سے ٹکرا دی گئی، جس کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہداء میں 6 پولیس اہلکار، 2 کسٹمز اہلکار، 2 خواتین اور ایک دو سالہ بچہ شامل ہیں۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار، کسٹمز حکام اور عام شہری بھی شامل ہیں، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
ریسکیو 1122 درازندہ کی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق 6 ایمبولینسز، ایک فائر وہیکل اور 25 سے زائد اہلکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ زخمیوں کی منتقلی کے لیے ڈی آئی خان سے مزید چار ایمبولینسز بھی عملے سمیت روانہ کی گئیں۔
پولیس، سیکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی کی ٹیموں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کردیا، جبکہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کرنے اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔ دھماکے کے بعد ڈی آئی خان۔کوئٹہ شاہراہ پر ٹریفک بھی روک دی گئی۔
### گورنر خیبرپختونخوا کی رپورٹ طلب، وزیر اطلاعات شفیع جان کا اظہار افسوس
گورنر خیبرپختونخوا نے امن میلہ چیک پوسٹ درازندہ پر حملے کے واقعے کی اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔ گورنر نے حملے کو فتنہ الہندوستان خوارج کی مذموم سازش قرار دیتے ہوئے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے درازندہ میں چیک پوسٹ پر دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس، سیکیورٹی فورسز اور عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، دہشتگرد اپنے مذموم عزائم سے صوبے کے عوام کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات جاری رہیں گے۔
### 22 سالہ پالیسی کے باوجود پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ویڈیو پیغام میں درازندہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کے بزدلانہ حملے میں نوجوانوں اور شہریوں کی شہادت پر دلی رنج و غم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ دہشتگردی کی نئی لہر میں روزانہ ان کے پختون بھائی شہید ہورہے ہیں۔ جب دہشتگردوں کی آبادکاری کی پالیسی بنائی جارہی تھی تو انہوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے آواز اٹھائی تھی، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ایک بار پھر صوبے کے عوام کو لاشیں اٹھانا پڑیں گی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ 22 سال سے ایک پالیسی مسلسل نافذ ہے، لیکن خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔ بار بار پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے، مگر ان کے بقول صوبائی حکومت کی بات نہیں سنی جارہی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہورہے ہیں۔ ہمارے شہداء کسی کے بیٹے، بھائی یا باپ ہیں، ہماری مائیں اور بہنیں بھی دہشتگردی کا نشانہ بن رہی ہیں، آخر کب تک یہ خون بہتا رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کی مخالفت اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ ان کا نقصان پورے پاکستان کو ہوتا ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں کے مفاد میں سنجیدہ فیصلے کرنا ہوں گے اور پائیدار امن کے لیے موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی کرکے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
### پولیس کے لیے 35 ارب روپے اضافی فراہم کیے، مطلوبہ آلات اور اے پی سیز تاحال نہیں ملیں، وزیراعلیٰ
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت امن کے قیام کے لیے اپنے طور پر ہر ممکن اقدام کررہی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگا کر پولیس کے لیے بجٹ سے ہٹ کر 35 ارب روپے فراہم کیے گئے اور پولیس کو جدید اسلحہ، آلات اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے اضافی وسائل دیے گئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی اداروں کو ادائیگیاں ہوچکی ہیں، لیکن خیبرپختونخوا پولیس کو تاحال مطلوبہ آلات اور اے پی سیز فراہم نہیں کی گئیں۔ پولیس دہشتگردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر جنگ لڑ رہی ہے، اس لیے پولیس کے لیے مطلوبہ سامان کی فراہمی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
سہیل آفریدی کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کردیا گیا ہے، جو ان کے بقول 103 فیصد اضافہ ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی ایکشن پلان وفاق کو دیا اور 100 دن میں امن لانے کی صلاحیت کا اظہار کیا، تاہم سوال یہ ہے کہ صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہورہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 22 سال کے دوران 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے باوجود صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔
### دہشتگردی کی آگ پورے پاکستان کو لپیٹ میں لے سکتی ہے، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے خبردار کیا کہ اگر دہشتگردی کی آگ کو نہ روکا گیا تو یہ صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا پاکستان اس کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ فیصلے اور پالیسیوں پر نظرثانی ناگزیر ہے۔ فوج، پولیس اور عوام ہمارے اپنے لوگ ہیں، عمران خان اور تحریک انصاف نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ فوج ہماری ہے، ملک ہمارا ہے، پولیس ہماری ہے اور عوام بھی ہمارے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی تنقید بند کمروں میں بنائی جانے والی ان پالیسیوں پر ہے جو خیبرپختونخوا اور پاکستان کے عوام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
### وفاقی وزراء کے بیانات پر تنقید، صوبوں میں نفرتیں بڑھنے کا خدشہ ظاہر
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی وزراء کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی گفتگو ملک میں نفرت اور انتشار پیدا کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے بارے میں وفاقی وزراء کی نامناسب گفتگو قابل افسوس ہے۔ اگر کوئی وفاقی وزیر خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشتگرد قرار دیتا ہے تو یہ انتہائی تشویشناک ہے اور ایسے بیانات پاکستان کو تقسیم کرنے اور صوبوں کے درمیان نفرت بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے وفاقی وزراء کو مسلط کیا ہے، انہیں ذمہ دارانہ گفتگو کی ہدایت کرنی چاہیے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ وہ مسلسل شہداء کے خاندانوں کے پاس جارہے ہیں، کبھی بنوں، کبھی کوہاٹ، کبھی دیر اور کبھی سوات میں متاثرہ خاندانوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ جو لوگ عوام کے درمیان نہیں جاتے، وہ انہیں عوامی محبت کا درس نہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اداروں کے خلاف مہم چلائی اور سپریم کورٹ پر چڑھائی کی، وہ انہیں اداروں کے احترام کا درس نہ دیں۔
### لانگ مارچ پرامن تھا، پرامن رہے گا، 4 اکتوبر کو آئینی حق استعمال کریں گے، وزیراعلیٰ
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشتگردی اور معاشی مشکلات کا سامنا کررہا ہے، ایسے حالات میں حکمرانوں کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا نوجوان اور کارکن باشعور ہے اور 9 مئی کے بعد بھی کارکن ہر اشتعال انگیزی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ان کا لانگ مارچ پرامن تھا، پرامن ہے اور پرامن رہے گا۔ چار اکتوبر کو پاکستان کے عوام پرامن طریقے سے اپنا حق استعمال کریں گے، کیونکہ پرامن احتجاج آئینی اور قانونی حق ہے۔