اٹک میں 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے پیش نظر 50 ہزار اہلکار تعینات، ہزاروں کنٹینرز سے راستے بند، پولیس اہلکاروں کی مبینہ بدحالی پر اہل خانہ کا احتجاج، میجر طاہر صادق اور ایمان طاہر کی پولیس اہلکاروں سے مہمان نوازی کی اپیل
اٹک پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے پیش نظر اٹک میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ضلع بھر میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے آنے والے تقریباً 35 ہزار پولیس افسران و اہلکاروں سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مجموعی طور پر 50 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ اٹک کی مختلف تحصیلوں میں سرکاری اسکولوں، شادی ہالوں اور سرکاری و نجی عمارتوں کو عارضی رہائش گاہوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
حضرو، حسن ابدال، فتح جنگ، پنڈی گھیب، جنڈ اور اٹک میں تعینات پولیس نفری کے لیے رہائش، خوراک، واش رومز اور نہانے کی سہولیات کے انتظامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ اور دوست احباب نے سوشل میڈیا پر مبینہ ناقص سہولیات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بعض مقامات پر اہلکاروں کو غیر معیاری کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی شکایات کے مطابق بعض اہلکاروں کو دوپہر میں دال اور نان، رات کو چاول اور پتلی دال جبکہ صبح ناشتے میں گزشتہ رات کے بچے ہوئے چاول اور چائے دی جا رہی ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ غیر معیاری خوراک اور رہائشی سہولیات کی کمی کے باعث متعدد اہلکار پیٹ کی بیماریوں اور دیگر طبی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ شوگر اور امراض قلب میں مبتلا اہلکاروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ترجمان اٹک پولیس نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو بلاجواز اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اٹک آنے والے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو بہتر رہائش اور خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ موسم کی تبدیلی کے باعث کسی اہلکار کی طبیعت خراب ہونے پر فوری طبی امداد بھی مہیا کی جا رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق اتنی بڑی نفری کو سہولیات فراہم کرنے میں معمولی کمی بیشی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے سامنے آنے والی تصویر حقیقت کی عکاسی نہیں کرتی۔
ادھر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے مطالبے اور 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے پیش نظر اٹک پل، موٹر وے، سی پیک موٹر وے ہزارہ اور جی ٹی روڈ سمیت اہم مواصلاتی راستوں پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پانچ ہزار سے زائد کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں مختلف مقامات پر لگائی گئی ہیں، جبکہ اٹک پل پر لوہے کی بھاری چادریں ویلڈ کرکے ان پر مضبوط سریے نصب کیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کی پیش قدمی روکی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اٹک پل دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند ہونے کے باعث پنجاب اور خیبرپختونخوا کے درمیان زمینی رابطہ شدید متاثر ہوا ہے۔ مسافروں، خواتین اور بچوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور شہریوں کو شدید گرمی میں میلوں پیدل سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی ذرائع نے مواصلاتی رابطوں کی بندش کے باعث مریضوں اور دیگر ضروری سفر کرنے والوں کو بھی مشکلات پیش آنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی اپیل پر ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر اٹک پل پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے ہیں۔ کارکنان کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ اس دوران تھانہ اٹک خورد کے ایس ایچ او انسپکٹر صفدر خان نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظاہرین کے قریب جا کر ان سے بات چیت کی، جس پر پی ٹی آئی کارکنان نے ان کے عوام دوست رویے کو سراہتے ہوئے ان کے حق میں نعرے لگائے۔
مرکزی رہنما پاکستان تحریک انصاف اور سابق ضلع ناظم اٹک میجر طاہر صادق اور سابق امیدوار قومی اسمبلی حلقہ این اے 50 و سابق چیئرپرسن ضلع کونسل اٹک ایمان طاہر صادق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ایک پرامن سیاسی جماعت ہے اور اس کی جدوجہد مکمل طور پر پرامن ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ پولیس نفری اٹک، بالخصوص تحصیل حضرو میں تعینات کی گئی ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی ضلع اٹک کے کارکنان اور میجر گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ حسن ابدال، حضرو اور اٹک کے دیگر علاقوں میں تعینات پنجاب پولیس کے اہلکاروں کو معزز مہمان سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اہلکار ہمارے بھائی اور بیٹے ہیں، جو اپنے گھروں سے دور سرکاری ڈیوٹی انجام دینے آئے ہیں۔
میجر طاہر صادق اور ایمان طاہر نے کارکنان سے کہا کہ وہ اپنے گھروں، ڈیروں اور حجروں کے دروازے پولیس اہلکاروں کے لیے کھولیں، ان کے کھانے پینے اور رہائش کا خیال رکھیں اور ان سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔ ان کے مطابق مہمان نوازی نہ صرف دینی فریضہ بلکہ اٹک کی تاریخی روایت بھی ہے، جہاں سے گزرنے والے ہر شخص اور مسافر کی عزت کی جاتی رہی ہے۔
اٹک میں جاری سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی انتظامات کے تناظر میں شہریوں کی نظریں حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں۔ دوسری جانب عوامی حلقوں میں مواصلاتی رابطوں کی بحالی، مسافروں کی مشکلات کے ازالے، پولیس اہلکاروں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
