مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون اور اجتماعی دفاع مضبوط بنانے پر اتفاق

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون اور اجتماعی دفاع مضبوط بنانے پر اتفاق

راولپنڈی: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیفس آف جنرل اسٹاف کا اجلاس 25 ستمبر کو ریاض میں منعقد ہوا، جس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی صورتحال اور خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے مقدس شہر مکہ مکرمہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس کے شرکاء نے سعودی مسلح افواج کی مستعدی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے سعودی عوام کی حفاظت اور مملکت کی سلامتی یقینی بنانے کے اقدامات کی تعریف کی۔

اجلاس میں تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، فوجی رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کو مربوط بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، تاکہ دفاعی قوت اور اجتماعی دفاع کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شرکاء نے تینوں ممالک کے عوام اور مسلح افواج کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی اعتماد کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ریاض میں ہونے والا یہ اجلاس دفاعی شراکت داری کی مضبوطی اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے وعدوں کو فوری طور پر عملی فوجی تعاون میں تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔

اجلاس میں تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں