سہیل آفریدی کا چارسدہ میں فضل شکور خان سے اظہارِ یکجہتی، پشاور میں بڑا اعلان، رکاوٹیں، کیلیں اور گرفتاریاں لانگ مارچ نہیں روک سکتیں

### سہیل آفریدی کا چارسدہ میں فضل شکور خان سے اظہارِ یکجہتی، پشاور میں بڑا اعلان، رکاوٹیں، کیلیں اور گرفتاریاں لانگ مارچ نہیں روک سکتیں

پشاور/چارسدہ: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کے اغوا کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ہمارے وزراء اور رہنماؤں کو گرفتار کرکے سمجھا جا رہا ہے کہ عوام ڈر جائیں گے، لیکن ہم نہ ڈرنے والے ہیں اور نہ جھکنے والے ہیں، پوری دنیا مل کر بھی ہمیں جھکا نہیں سکتی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور پرامن ہوگا، سڑکوں پر کیلیں ٹوکی جائیں، کنٹینرز رکھے جائیں یا گولیاں چلائی جائیں، ہم نکلیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع چارسدہ کے مختصر دورے کے دوران صوبائی وزیر فضل شکور خان کی رہائش گاہ پر کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آمد کا مقصد عمران خان کے نڈر اور بہادر سپاہی فضل شکور خان کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ فضل شکور خان اس وقت غنڈہ گردوں کی حراست میں ہیں، ہم فسطائیت کے خلاف ان کے حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرامن عوامی نمائندوں کو اغوا کرنے والے خود دہشت گرد ہیں، ہمارے وزراء اور رہنماؤں کو گرفتار کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح عوام خوفزدہ ہوجائیں گے، لیکن ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور حقیقی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سہیل آفریدی نے کارکنوں سے کہا کہ وہ پرامن اور مطمئن رہیں، یہ آپ کے اور پاکستان کے مستقبل کا معاملہ ہے، عمران خان اس قوم کے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن تھے، پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے، مخالفین کی سازشوں اور چالوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جعلی حکمرانوں کا بیانیہ ہے کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے خطرہ ہے، دوسری طرف خیبرپختونخوا کے لوگوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے جذبے جوان رکھیں، اس بار ٹیسٹ میچ ہوگا جو ان شاء اللہ ہم جیتیں گے۔

### اٹک پل پر کیلیں اور خیبرپختونخوا کو باقی ملک سے کاٹنے کی سازش کا خدشہ

پشاور میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا کی حدود پر سڑکوں میں کیلیں ٹوکنے کے عمل کو انتہائی تشویشناک اور خطرناک پیغام قرار دیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش پر باقاعدہ کام شروع کردیا گیا ہے؟ مسلسل یہ بیانیہ بنایا گیا کہ بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے اور خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گرد اور جنگلی قرار دیا جاتا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حدود پر ٹوکی جانے والی کیلیں ان کے جعلی نظام کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گی۔ پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا، ہم پاکستان کو بچائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیرآباد اور اٹک پل پر رکاوٹوں اور کیلوں کی موجودگی پر تشویش ہے۔ ان کے مطابق عوام کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوششیں ملک کے لیے خطرناک ہیں۔

### دوسرے صوبے کے اہلکاروں کی خیبرپختونخوا میں کارروائیوں پر سوالات

سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ دوسرے صوبے کے سرکاری اہلکار خیبرپختونخوا میں داخل ہوکر صوبائی سرکاری اہلکاروں کے ساتھ گتھم گتھا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا خیبرپختونخوا کی انتظامیہ اور پولیس پر اعتماد ختم ہوچکا ہے؟ کیا صوبے میں کسی دوسرے صوبے کی پولیس اور انتظامیہ لانچ کی جا رہی ہے؟

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزراء کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد کے ذریعے اغوا کیا جا رہا ہے، کبھی وزراء پر گولی چلائی جاتی ہے اور کبھی انہیں اغوا کرلیا جاتا ہے۔ یہ تمام اقدامات ملک کو خطرناک سمت میں لے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں اور حکمرانوں کو سیاست میں اتنا نیچے نہیں گرنا چاہیے کہ کل ایک دوسرے سے آنکھ ملانے کے قابل بھی نہ رہیں۔

### لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، سیاسی کمیٹی کا اجلاس جاری

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور مکمل طور پر پرامن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر کیلیں ٹوکی جائیں، کنٹینرز رکھے جائیں یا گولیاں چلائی جائیں، ہم نکلیں گے۔ اس دفعہ نکلیں گے تو اس کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں کا ونس فار آل بندوبست کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل جلد میڈیا کے سامنے رکھا جائے گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ان ہتھکنڈوں سے وہ ڈر جائیں گے یا اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ جائیں گے تو یہ ان کی غلط سوچ ہے۔

### سیکریٹریٹ اور مسجد کی بندش پر بھی وزیراعلیٰ کا ردعمل

پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ نے صوبائی سیکریٹریٹ اور مسجد کو سیکیورٹی تھریٹ کے نام پر بند کرنے کے اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ جس سیکریٹریٹ کو تھریٹ کا بہانہ بنا کر بند کیا گیا، وہ خود وہاں گئے اور چہل قدمی کی۔ جس مسجد کو خطرے کے نام پر بند کیا گیا، وہاں جاکر خود نماز ادا کی۔

ان کے مطابق کوئی تھریٹ نہیں تھا اور جعلی تھریٹس کے ذریعے پورے صوبے کا نظام بند کروایا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیکریٹریٹ کینٹ کے اندر ہے اور کینٹ مکمل طور پر ان کے قبضے میں ہے۔ اگر کینٹ سے سیکریٹریٹ تک دہشت گرد پہنچ سکتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے تنخواہیں کس کام کی لے رہے ہیں؟

انہوں نے الزام لگایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دلچسپی صرف تحریک انصاف کے وزراء کو پکڑنے اور پارٹی کو ختم کرنے میں ہے۔

### میڈیا کوریج روکنے کی اطلاعات پر اظہار تشویش

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے پارلیمانی لیڈر اور وزیر اطلاعات کو میڈیا پر بند کردیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ کی کوریج سے بھی میڈیا کو روکنے کی اطلاعات ملی ہیں۔

انہوں نے تمام میڈیا نمائندوں کا ہر ایونٹ کی کوریج کرنے پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔

وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا کے عوام اور سرکاری افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ ڈریں اور نہ گھبرائیں۔ جب تک آپ کا وزیراعلیٰ آپ کے ساتھ ہے، خیبرپختونخوا کو کوئی بری نظر سے نہیں دیکھ پائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے موقف پر قائم ہیں، پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے اور پاکستان کو بچانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں