کوہاٹ پولیس لائنز دہشت گردی: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا شہداء کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت، پالیسی تبدیلی اور متاثرین کے لیے مالی معاونت کا اعلان
کوہاٹ: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ پولیس لائنز دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے والے پولیس، سی ٹی ڈی اور تمام اہلکاروں کو سلام پیش کرتے ہیں، ہمارے شہداء نے قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا 2004 سے آج تک 22 سال سے مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، تاہم 22 سال سے ایک ہی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے جو نتائج نہیں دے رہی، اب پالیسی تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دے رہی ہے لیکن کوئی اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور اداروں کی تمام توجہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے اور عمران خان کو جیل میں رکھنے پر مرکوز ہے، وفاقی حکومت کی ترجیح سیاسی انتقام ہے، دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کا تحفظ ان کی ترجیح نہیں۔ ان کے بقول وفاقی حکومت کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
افغانستان سے متعلق وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں افغانستان میں بھارت نواز حکومت کے باوجود پاکستان میں امن قائم تھا، آج افغانستان میں موجود حکومت کے ساتھ چائے پر ملاقاتیں کی گئیں لیکن اس کے باوجود تعلقات بہتر نہیں ہوئے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں، بارڈر بند ہے اور گزشتہ مالی سال خیبرپختونخوا کو 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث رواں مالی سال بھی صوبے کو معاشی نقصان کا سامنا ہوگا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی بیانیہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو بھارت سے نہیں بلکہ اپنے ہی تین چھوٹے صوبوں سے خطرہ سمجھا جائے تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا پولیس کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کرنے کے لیے 35 ارب روپے اضافی دیے گئے ہیں جبکہ مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 190 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ پولیس کو مضبوط کیے بغیر صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا، صوبائی اسمبلی کے اراکین نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرکے پولیس کے لیے وسائل فراہم کیے ہیں۔
انہوں نے شہداء کے خاندانوں کے لیے بھی اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جو شہداء حکومتی شہداء پیکیج کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان کے خاندانوں کو بھی صوبائی حکومت مالی معاونت فراہم کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کوہاٹ کے طبی اور شہری انفراسٹرکچر کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کوہاٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال کو تمام ضروری اور اہم طبی آلات فراہم کیے جائیں گے۔ دھماکے سے متاثر ہونے والی مسجد اور اسپیشل برانچ پولیس اسٹیشن کی تعمیر نو بھی کرائی جائے گی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کوہاٹ میں ایک ہزار بستروں کے ہسپتال کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے، اسے کم سے کم مدت میں مکمل کیا جائے گا۔
ملاقات کے موقع پر اراکین قومی اسمبلی شہریار آفریدی اور داؤد آفریدی جبکہ صوبائی وزراء شفیع جان اور آفتاب عالم بھی موجود تھے۔