خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے، وفاق اور صوبہ ایک دوسرے پر الزامات کے بجائے مل کر کام کریں، آفتاب شیرپاؤ
پشاور: قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ ملک خصوصاً خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال پر ہر شخص تشویش میں مبتلا ہے، کوہاٹ میں دہشتگردی کے حالیہ واقعے پر متاثرین کے ساتھ دلی ہمدردی ہے، دہشتگردی کے واقعات روکنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایک واضح اور مؤثر حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مسلسل دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، اگست میں دہشتگردی کے 180 واقعات ہوئے، جن کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول روزانہ اوسطاً دو دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس، سیکیورٹی فورسز اور عوام کا خون بہہ رہا ہے، یہ کوئی مذاق نہیں۔ دہشتگرد روزانہ اپنی کارروائیوں کے طریقہ کار تبدیل کر رہے ہیں اور ان کے پاس ایسے جدید ہتھیار بھی موجود ہیں جو شاید پولیس کے پاس نہیں۔ پہلے دہشتگرد خودکش حملے کرتے تھے، اب دھماکا کرنے کے بعد اندر داخل ہوکر فائرنگ کی جاتی ہے۔
آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے واقعات کے عوام کے ذہنوں پر نفسیاتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ایسے حالات میں ہر شخص متاثر اور مایوس ہے۔ دہشتگردی کے واقعات روکنے کے لیے اب تک ٹھوس اقدامات نظر نہیں آرہے اور نیشنل ایکشن پلان پر بھی مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے، دہشتگردی کو روکنے اور ختم کرنے کے لیے واضح اسٹریٹجی کی ضرورت ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس دہشتگردی سے نمٹنے کے حوالے سے مؤثر حکمت عملی ہونی چاہیے۔
قومی وطن پارٹی کے سربراہ نے صوبائی حکومت کو مشورہ دیا کہ اسٹریٹ موومنٹ اور لانگ مارچ کے بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دے۔ دہشتگردی کے واقعات کے سدباب کے لیے مکمل انکوائری کی ضرورت ہے، صرف رپورٹ طلب کرنے سے معاملات درست سمت میں نہیں جاسکتے۔
آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ صوبے میں کہیں بھی قانون کی بالادستی واضح طور پر نظر نہیں آرہی، جس کے باعث جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور اسمبلیوں کو اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینا ہوگی۔ مرکز اور صوبے کو ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بند کرکے ایک پیج پر آنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حالات سنگین ہیں اور ان پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ رواں سال پولیس، فوج اور شہریوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ شہید ہوئے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ برسوں کے دوران تقریباً 80 ہزار پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی جوانوں اور شہریوں نے قربانیاں دی ہیں۔
آفتاب شیرپاؤ نے اعلان کیا کہ قومی وطن پارٹی کی جانب سے تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کو صوبے کی سنگین امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے یادداشتیں بھیجی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر آکر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کا روڈ میپ دیں۔
انہوں نے ترکی اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفود کے دورۂ افغانستان کے موقع پر کوہاٹ میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں دہشتگردی کے خلاف مذاکرات کس طرح ہوسکتے ہیں۔
قومی وطن پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ صوبائی امن جرگے کے مشترکہ اعلامیے کے بعد صوبائی حکومت نے کیا عملی اقدامات کیے، اس کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کا مؤثر نظام ضروری ہے۔
آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے بعد توقع تھی کہ حالات بہتری کی جانب جائیں گے، مگر افسوس کہ کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اس وقت بداعتمادی کی فضا موجود ہے۔
انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نظام کے حوالے سے درست بات کی، تاہم یہ بھی نشاندہی ہونی چاہیے کہ سسٹم کیوں بیٹھ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا اچھا نظام تھا لیکن اسے چلنے نہیں دیا گیا۔
آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ ملک کو معاشی مشکلات اور مہنگائی کا بھی سامنا ہے، روٹی کی قیمت 40 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھا ہے۔