خیبر پختونخوا میں پولیو مہم کا آغاز، 73 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف، 35 ہزار ٹیمیں تشکیل
پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا، صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں انسدادِ پولیو مہم 21 سے 27 ستمبر تک جاری رہے گی اور اس مرتبہ صوبے بھر میں ایک ساتھ مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مہم کے لیے 35 ہزار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ 73 لاکھ بچوں تک رسائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیو ٹیموں کے ساتھ سیکیورٹی اہلکار اور دیگر متعلقہ ادارے بھی فرائض انجام دیں گے، تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
وزیر صحت نے کہا کہ صوبے کے ہسپتالوں میں عوام کو طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور تمام وسائل موجود ہیں۔ ٹی ایم اوز کے تنخواہوں سے متعلق مسائل پر بھی بات چیت جاری ہے، بجٹ اور کابینہ میں مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو سختی کا سامنا نہ کرنا پڑے، کوشش ہے کہ بات چیت کے ذریعے معاملات حل کیے جائیں اور ٹی ایم اوز کو سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہسپتالوں میں تمام سروسز بحال ہیں۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہیں جبکہ خطرناک اور دور دراز علاقوں میں بچوں تک رسائی مشکل ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بچوں تک رسائی کے لیے خصوصی پولیو مہم چلائی جائے گی۔ دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ قبائلی اضلاع میں 2400 ڈاکٹرز بھرتی کیے گئے ہیں۔
چیف سیکرٹری کے مطابق جون اور جولائی میں ادویات کی فراہمی کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے جبکہ صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے آؤٹ سورسنگ کی جانب بھی پیش رفت کی جارہی ہے۔
شہاب علی شاہ نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے پولیو وائرس آنے کا خطرہ موجود ہے، وائرس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکتا ہے، اس لیے خطرات بدستور موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بچہ پولیو سے متاثر ہو تو پورا خاندان متاثر ہوتا ہے، اسی لیے ہر بچے تک رسائی اور اسے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ضروری ہے۔
چیف سیکرٹری نے واضح کیا کہ پولیو کو سیکیورٹی سے الگ رکھا گیا ہے اور یہ بنیادی طور پر صحت کا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 50 ہزار پولیس اہلکار پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی اور دیگر ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔