پمز ہسپتال کی سیکیورٹی پر بڑا سوالیہ نشان، نومولود بچے کے مبینہ اغوا کی کوشش ناکام، لاہور کی تین خواتین گرفتار
اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں نومولود بچے کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کی کوشش نے ہسپتال کے سیکیورٹی انتظامات کا پول کھول دیا، تاہم بروقت کارروائی کے باعث نومولود کو چوری ہونے سے بچا لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال میں نومولود بچے کو مبینہ طور پر اٹھا کر لے جانے کی کوشش کی گئی، جسے موقع پر موجود افراد اور سیکیورٹی عملے کی بروقت مداخلت سے ناکام بنا دیا گیا۔ واقعے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے لاہور سے تعلق رکھنے والی تین خواتین کو حراست میں لے لیا گیا، جن میں دو سگی بہنیں بھی شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار خواتین کے مبینہ طور پر نومولود بچے تک پہنچنے اور اسے ہسپتال سے باہر لے جانے کی کوشش نے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے سرکاری ہسپتال میں نومولود بچوں کے وارڈ تک غیر متعلقہ افراد کی رسائی کیسے ممکن ہوئی؟
واقعے کے بعد مریضوں اور ان کے لواحقین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ سیکیورٹی نظام کا فوری ازسرنو جائزہ لے اور نومولود بچوں کے وارڈز میں داخلے اور اخراج کا مؤثر نظام بنایا جائے۔
پمز میں نومولود محفوظ نہیں تو عام مریض اور ان کے لواحقین کتنے محفوظ ہیں؟ یہ سوال اب ہسپتال انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آگیا ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور گرفتار خواتین سے پوچھ گچھ کے ذریعے مبینہ مقصد اور دیگر ممکنہ ساتھیوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔