وائرل ویڈیو میں پاکستانی فوجی سعودی عرب نہیں جا رہے — فیکٹ چیکرز نے اقوام متحدہ کے امن مشن کی تصدیق کر دی

**وائرل ویڈیو میں پاکستانی فوجی سعودی عرب نہیں جا رہے — فیکٹ چیکرز نے اقوام متحدہ کے امن مشن کی تصدیق کر دی**

اسلام آباد — سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں پاکستانی فوجیوں کو ہوائی اڈے پر روانگی کرتے دکھایا گیا ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ دستہ سعودی عرب جا رہا ہے تاکہ یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں حصہ لے سکے۔ فیکٹ چیک تنظیموں نے اس دعوے کو غلط قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ فوٹیج میں نظر آنے والے فوجی اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔

اس دعوے نے حالیہ حوثی حملوں اور پاکستان-سعودی دفاعی معاہدوں کے تناظر میں تیزی سے پھیلنے کی کوشش کی، مگر سرکاری موقف اور آزاد فیکٹ چیک دونوں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یمن میں نئی جنگی تعیناتی کا کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا۔

## کیا دعویٰ کیا جا رہا تھا؟

سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو کے ساتھ لکھا کہ “ارضِ مقدس کی حفاظت کے لیے روانگی شروع ہو گئی” اور سعودی پرچم کے ساتھ اسے یمن سرحد پر تعیناتی سے جوڑ دیا۔ کچھ پوسٹس میں یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان حوثیوں کے خلاف فوری فوجی مدد بھیج رہا ہے۔

ایسے ہی دعوے ستمبر 2025 میں بھی سامنے آئے تھے، جب پاکستان اور سعودی عرب نے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ دستخط کیا تھا۔ اس وقت بھی ایک ہوائی اڈے کی ویڈیو کو مکہ و مدینہ کی حفاظت سے جوڑا گیا تھا۔ سوچ فیکٹ چیک، پاکستان آبزرور اور دیگر آزاد ذرائع نے اس وقت بھی یہی نتیجہ نکالا تھا کہ وردی اور کیپس اقوام متحدہ کے امن دستوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔

## حقیقت کیا ہے؟

فیکٹ چیکرز کے مطابق ویڈیو میں دکھائے گئے فوجیوں کا لباس اور کیپس اقوام متحدہ کے امن مشن کے دستوں سے ملتے ہیں۔ پاکستان دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں سب سے بڑے حصہ داروں میں سے ایک ہے۔

موجودہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان تقریباً 2,600 سے 2,800 فوجی اور پولیس اہلکار ابیئی، وسطی افریقی جمہوریہ، کانگو، قبرص، جنوبی سوڈان اور مغربی صحارا جیسے مشنوں میں تعینات رکھتا ہے اور پانچویں بڑے شراکت دار ممالک میں شامل ہے۔ 1960 سے اب تک پاکستان 48 مشنوں میں 235,000 سے زائد اہلکار بھیج چکا ہے، جن میں سے 170 سے زائد امن فوجی خدمات انجام دیتے ہوئے شہید ہو چکے ہیں۔

یعنی ویڈیو “نئی جنگی روانگی” نہیں بلکہ پاکستان کے روزمرہ اور طویل عرصے سے جاری امن مشن کا حصہ ہے۔

## پس منظر: پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات

پاکستان اور سعودی عرب کے فوجی تعلقات دہائیوں پرانے ہیں۔ 1960 کی دہائی سے پاکستانی فوجی دستے مملکت میں تربیتی اور مشیر کے طور پر موجود رہے ہیں۔ ستمبر 2025 میں ریاض میں وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے **اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ** پر دستخط کیے، جس کے تحت ایک ملک پر حملے کو دوسرے پر حملہ سمجھا جائے گا۔

بعد ازاں 2026 میں ترکی کو شامل کر کے **مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ** کا فریم ورک بھی سامنے آیا۔ اس معاہدے کو دفاعی قرار دیا گیا ہے، یعنی اس کا مقصد جارحیت کا جواب دینا ہے، نہ کہ کسی تیسرے ملک میں جارحانہ کارروائی کرنا۔

2026 میں ایران جنگ کے دوران بعض غیر سرکاری رپورٹس میں کہا گیا کہ پاکستان نے سعودی عرب میں ہزاروں فوجی، جی ایف-17 اسکواڈرن اور دفاعی نظام بھیجے ہیں۔ پاکستانی ذرائع نے ان رپورٹس کے زاویے پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ تعلقات تاریخی اور باہمی تعاون کا تسلسل ہیں، کسی مخصوص تنازعے سے جوڑنا درست نہیں۔ وزارت خارجہ کا حالیہ موقف یہ ہے کہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی اہلکار زیادہ تر تربیت اور لاجسٹکس کے لیے ہیں۔

## حالیہ حوثی حملے اور پاکستان کا موقف

ستمبر 2026 کے اوائل میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابھا، خمیس مشیط، جازان اور نجران پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور شہری و اقتصادی اہداف نشانہ بنے۔

وزارت خارجہ نے ان حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دفاع کے حق کی حمایت کی۔ ترجمان سجاد حیدر خان نے 10 ستمبر 2026 کو بریفنگ میں واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی فی الحال زیر بحث نہیں۔

ان کے الفاظ میں یہ “فرضی صورت حال” ہے اور معاہدے کے عملی میکانزم ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہیں۔ پاکستان نے ایران سے بھی رابطے جاری رکھے ہیں تاکہ صورتحال مزید نہ بگڑے۔ اسلام آباد کا بار بار دہرایا گیا موقف یہ ہے کہ کسی بھی مدد کو سعودی سرحدوں کے اندر دفاعی اقدامات تک محدود رکھا جائے اور یمن تنازعے میں پرامن حل کی وکالت کی جائے۔

یہ پالیسی 2015 سے مطابقت رکھتی ہے، جب پاکستان نے سعودی قیادت والے یمن اتحاد میں براہ راست فوجی شمولیت سے گریز کیا تھا۔

## کیا یمن میں نئی تعیناتی ہوئی؟

اب تک کسی سرکاری بیان میں یمن کے اندر پاکستانی فوجی دستوں کی نئی جنگی تعیناتی کی تصدیق نہیں ہوئی۔ سوشل میڈیا پر پرانی یا غیر متعلق فوٹیج کو بار بار نئے سیاق میں پیش کیا جا رہا ہے — خواہ وہ اقوام متحدہ کے امن مشن کی روانگی ہو، پرانی حوثی ویڈیوز ہوں یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ کلپس۔

ماہرین کے مطابق پاکستان ایک طرف سعودی عرب کا قریبی دفاعی شراکت دار ہے، دوسری طرف ایران کے ساتھ سرحد اور ثالثی کا کردار بھی نبھا رہا ہے۔ اسی توازن کی وجہ سے اسلام آباد کھلی جنگ میں کودنے کی بجائے مذمت، سفارتی دباؤ اور دفاعی تیاری پر زور دے رہا ہے۔

## نتیجہ

وائرل ویڈیو پاکستانی فوجیوں کی سعودی عرب یا یمن روانگی ثابت نہیں کرتی۔ یہ اقوام متحدہ کے امن مشن کا معمول کا منظر ہے۔ پاکستان حوثی حملوں کی مذمت کرتا ہے، سعودی عرب کے دفاعی حق کی حمایت کرتا ہے، مگر یمن میں نئی جنگی مہم کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز دیکھتے وقت وردی، کیپ، تاریخ اور سرکاری بیان ضرور چیک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں