حافظ نعیم الرحمن کا 17 ستمبر کو اسلام آباد مارچ سے متعلق اہم لائحہ عمل دینے کا اعلان
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی پرامن اسلام آباد مارچ کے اپنے آئینی و جمہوری حق سے دستبردار نہیں ہوگی، حکومت کنٹینر لگا کر بھی عوام کا راستہ نہیں روک سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی ختم کیے بغیر عوام کو حقیقی ریلیف نہیں مل سکتا، حکومت کو لیوی ٹیکس ختم کرنا ہوگا۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس اور گورنر ہاؤس سندھ کے سامنے پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنے کے 31ویں روز جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 17 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کے حوالے سے اہم لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ ملک کے 40 شہروں میں جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی جانب سے پٹرول پر ریلیف کے اعلان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہفتہ وار بنیاد پر پٹرول کی تقسیم کے لیے عوام کو لائنوں میں کھڑا کیا جائے گا اور حکومت نے اس منصوبے پر عمل درآمد سے قبل ہی اشتہارات شروع کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے ایک ماہ کے لیے 25 ارب روپے کا ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اس طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں بھاری لیوی اور دیگر ٹیکسز شامل ہیں، حکومت کو قیمتیں بڑھانے کے بجائے لیوی کم کرنی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1567 ارب روپے جمع کیے، جبکہ شرح سود میں کمی سے حکومت کو بڑے پیمانے پر مالی گنجائش حاصل ہوسکتی ہے جسے عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے ایف بی آر میں مبینہ کرپشن، شرح سود، حکومتی اخراجات اور متوازی معیشت پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو غیر ضروری اخراجات اور شاہ خرچیوں میں کمی کے ساتھ لگژری اشیا کی درآمد پر ڈیوٹی بڑھانے اور معاشی پالیسیوں میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔
انہوں نے سندھ کے بلدیاتی ترمیمی بل 2026 کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں بلدیاتی حکومتوں کے نظام کے لیے الگ باب ہونا چاہیے اور بلدیاتی حکومتوں کو وفاق سے براہ راست فنڈز ملنے چاہییں تاکہ وہ صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر نہ رہیں۔ انہوں نے میر رضا کیس کا حوالہ دیتے ہوئے سندھ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر سیاسی جماعت کے آئینی و جمہوری احتجاج کے حق کی حمایت کرتی ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مارچ کے اعلان سے پہلے کیا تھا۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے بیرون ملک دورے پر بھی حافظ نعیم الرحمن نے سوالات اٹھائے اور سرکاری وسائل کے استعمال پر وضاحت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اپنے اخراجات اور سرکاری وسائل کے استعمال کے حوالے سے قوم کو جواب دینا چاہیے۔
انہوں نے پی ٹی سی ایل کے بورڈ اجلاسوں سے متعلق میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری عہدیداروں کی مبینہ مراعات پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ حکمرانوں کو اپنی شاہ خرچیاں ختم کرنا ہوں گی۔ پریس کانفرنس اور جلسے میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔