گلگت بلتستان کابینہ نے 218 ارب روپے کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ منظور کرلیا

گلگت بلتستان کابینہ نے 218 ارب روپے کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ منظور کرلیا

گلگت: وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی زیر صدارت صوبائی کابینہ نے مالی سال 2026-27ء کے 218 ارب روپے حجم کے بجٹ کی متفقہ منظوری دے دی۔ بجٹ میں 23 ارب روپے ترقیاتی اور 88 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ وفاقی سٹیبلائزیشن پیکیج شامل کرکے مجموعی حجم 218 ارب روپے بنتا ہے۔ حکومت نے تمام محکموں کے غیر ترقیاتی بجٹ میں 30 فیصد تک کمی، کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 44 ہزار روپے کرنے اور صحت، تعلیم، زراعت اور سماجی تحفظ کے لیے اضافی فنڈز مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوشل پروٹیکشن کے لیے ایک ارب روپے اور سوشل سیکٹر کے لیے 4 ارب روپے کے انڈومنٹ فنڈ کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلی بار حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو مساوی ترقیاتی فنڈز دیے گئے ہیں تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔ دوسری جانب امجد حسین نے گلگت شہر میں 268.715 ملین روپے کی لاگت سے جدید ویسٹ مینجمنٹ منصوبے کا افتتاح کیا، جس میں دو روڈ واشر، تین گاربیج کمپیکٹر ٹرک اور ایک فیولنگ وہیکل شامل ہیں۔ انہوں نے ویسٹ مینجمنٹ ملازمین کی تنخواہیں کم از کم اجرت کے برابر کرنے اور پنشن کے لیے قابل عمل تجاویز پر غور کرنے کا اعلان بھی کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے اہم منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کرنے کی ہدایت بھی جاری کردی ہے، جن میں 30 میگاواٹ غواڑی اور 4 میگاواٹ تھک ہائیڈل پاور منصوبے اور جگلوٹ سکردو روڈ کی ٹریفک حادثات سے محفوظ بنانے کا منصوبہ شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں