وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی پشاور میں اہم ملاقاتیں، خیبرپختونخوا کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر مشاورت، لانگ مارچ اور آئینی اقدامات پر غور

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی پشاور میں اہم ملاقاتیں، خیبرپختونخوا کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر مشاورت، لانگ مارچ اور آئینی اقدامات پر غور

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی پشاور میں سرگرمیاں اس وقت اہم سیاسی موڑ اختیار کر گئیں جب انہوں نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات کی، جس میں صوبے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال، تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور ممکنہ آئینی اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ملاقات میں چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا بھی موجود تھے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جنوبی اضلاع سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کے باعث صوبے میں سیاسی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

گورنر ہاؤس میں محسن نقوی اور فیصل کریم کنڈی کی اہم ملاقات

محسن نقوی پشاور پہنچنے کے بعد گورنر ہاؤس گئے جہاں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ان کا استقبال کیا۔ ملاقات میں صوبے کی مجموعی سیاسی، انتظامی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق ملاقات میں صوبے کو دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کے لیے آئینی کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں یہ بھی زیر غور آیا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو کس طرح قابو میں رکھا جائے اور موجودہ سیاسی بحران کے دوران آئینی و قانونی دائرہ کار کو برقرار رکھا جائے۔

گورنر راج یا ایمرجنسی کی صورت میں آئینی کردار ادا کرنے پر اتفاق

ذرائع کے مطابق ملاقات میں اس امر پر بھی بات ہوئی کہ اگر صدر مملکت اور وزیراعظم خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس آئینی کردار ادا کرے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور پی ٹی آئی وزیراعلیٰ کی قیادت میں لانگ مارچ جاری ہے۔

سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی تحفظات

ملاقات میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران سرکاری ہیلی کاپٹر اور سرکاری وسائل کے استعمال کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اعلامیے کے مطابق سرکاری ہیلی کاپٹر اور وسائل کا لانگ مارچ کے لیے استعمال عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

پولیس ہائی الرٹ، مختلف اضلاع سے اضافی نفری طلب

محسن نقوی کو خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر آئی جی پولیس کی جانب سے بریفنگ بھی دی گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ مختلف اضلاع کی پولیس لائنز سے اضافی نفری طلب کرلی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بھی تیار کرلی گئی ہے اور حساس مقامات سمیت اہم تنصیبات کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

محسن نقوی کا مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دینے کا دعویٰ

پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات میں تقریباً 99 فیصد معاملات پر اتفاق رائے ہوچکا تھا اور معاہدے کا مسودہ بھی تیار کرلیا گیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔

محسن نقوی کے مطابق اپوزیشن وفد نے مذاکرات میں سنجیدگی سے شرکت کی اور مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ جو معاملات طے ہوسکتے تھے، وہ طے ہوگئے تھے، جبکہ معاہدے کی کاپی صدر مملکت کے پاس بھی لے کر گئے اور وزیراعظم کو بھی مذاکرات سے متعلق مکمل بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ ایک دو معاملات پر اختلاف باقی تھا لیکن 99 فیصد چیزوں پر اتفاق ہوچکا تھا۔ ان کے بقول صدر سے ملاقات کے بعد واپس آنے پر ڈرافٹ میں مزید تبدیلیاں سامنے آئیں اور چار مرتبہ معاہدے کا مسودہ تیار اور تبدیل ہوا۔

’’اگر فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو وہ خود مذاکرات میں آتے‘‘

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے مذاکراتی وفد کو واضح کیا تھا کہ اگر حتمی فیصلے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو انہیں خود مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے تھا۔

محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ ڈرافٹ فائنل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ ان کے بقول اگر پہلے معلوم ہوتا کہ خیبرپختونخوا حکومت مذاکراتی عمل کو ویٹو کردے گی تو حکومت مذاکرات ہی نہ کرتی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے بعد اپوزیشن کے ساتھ مزید مذاکرات نہیں ہوں گے۔

9 مئی جیسا واقعہ دوبارہ نہ ہونے دینے کا اعلان

محسن نقوی نے واضح کیا کہ حکومت کسی بھی صورت 9 مئی جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہونے دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو احتجاج کا حق ہے، تاہم اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنائے گی اور اگر قانون شکنی ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

وزیر داخلہ کے مطابق احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی اور اگر پی ٹی آئی کارکنوں نے قانون توڑا تو حکومت انہیں نہیں چھوڑے گی۔

پیپلز پارٹی پر وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی رابطے کا کردار ادا کرنے کا تاثر

موجودہ صورتحال میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار بھی خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور محسن نقوی کی ان سے ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان براہ راست سیاسی تناؤ بڑھ رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کی صوبے میں موجود سیاسی پوزیشن اور گورنر ہاؤس کے ذریعے وفاقی حکومت سے رابطہ اس بحران میں ایک ممکنہ سیاسی سہولت کاری کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کے کسی حتمی فیصلے کی حمایت سے متعلق واضح مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

ایک طرف لانگ مارچ، دوسری طرف وفاقی مشاورت

ادھر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ کی قیادت کے لیے لکی مروت پہنچے اور گنڈی چوک سے قافلے کا آغاز کیا۔ پی ٹی آئی قیادت اور پارلیمنٹیرینز بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ وزیراعلیٰ نے جنوبی اضلاع میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی پالیسیوں، ملٹری آپریشنز، ڈرون حملوں اور بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یوں ایک جانب خیبرپختونخوا حکومت لانگ مارچ کے ذریعے سیاسی دباؤ بڑھا رہی ہے جبکہ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ کی پشاور آمد، گورنر، چیف سیکرٹری اور پولیس حکام سے مشاورت اور ممکنہ آئینی اقدامات پر گفتگو نے صوبے کی سیاسی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں