پمز نرسری سانحہ: وزیراعظم کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی، 14 نومولود جاں بحق

پمز نرسری سانحہ: وزیراعظم کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی، 14 نومولود جاں بحق

اسلام آباد: وزیراعظم کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کی پمز نرسری سانحے سے متعلق رپورٹ سامنے آگئی، جس میں نرسری میں آتشزدگی کی بنیادی وجہ برقی خرابی قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اے سی نمبر 2 کی بجلی کی سپلائی کیبل سے آگ لگنے کا قوی امکان ہے، تاہم تخریب کاری یا آئیسکو فالٹ کے شواہد نہیں ملے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آکسیجن لیکیج یا انکیوبیٹر سے آگ لگنے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا۔ حادثے کے وقت نرسری میں 15 نومولود زیر علاج تھے، جن میں سے 14 جاں بحق ہوئے، جبکہ 10 بیڈ کی گنجائش رکھنے والے یونٹ میں گنجائش سے زیادہ بچوں کو رکھا گیا تھا۔

انکوائری کمیٹی کے مطابق نرسری میں خودکار دھویں کا پتا لگانے اور مؤثر الارم کا نظام موجود نہیں تھا، جبکہ سابقہ فائر سیفٹی وارننگز پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ 6 جولائی کو نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ نے بھی فائر سیفٹی سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔

رپورٹ میں پمز انتظامیہ کی ناکامی کو ثابت شدہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فرنٹ لائن عملے نے آگ لگنے کے ابتدائی لمحات میں فوری کارروائی کی۔ آگ 6 بج کر 38 منٹ پر لگی جبکہ اس کی اطلاع 6 بج کر 54 منٹ پر دی گئی۔

کمیٹی کے مطابق کسی فرد کے خلاف مجرمانہ جرم ثابت نہیں ہوا، تاہم برقی تنصیبات، ایمرجنسی راستوں اور سابقہ فائر سیفٹی وارننگز پر مزید تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں پمز میں فوری طور پر فائر، لائف سیفٹی اور الیکٹریکل آڈٹ کرانے، جبکہ نومولود بچوں کے لیے خصوصی ایمرجنسی ایویکیوایشن ایس او پیز تیار کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں