لاہور میں ’’ہماری کوزین، ہماری شناخت‘‘ کے عنوان سے نشست، پاکستانی کھانوں اور قومی شناخت پر اہم مکالمہ
لاہور، 15 ستمبر 2026: نور شناخت لیڈرشپ پروگرام کے زیر اہتمام فاطمہ میموریل ہسپتال میں ’’نور شناخت اسپیکر سیریز‘‘ کی خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں پاکستانی کھانوں کو تاریخ، ثقافت، جغرافیہ اور قومی شناخت کے اہم اظہار کے طور پر زیر بحث لایا گیا۔
نشست کی نظامت نور فاؤنڈیشن کی شریک بانی ماہا رحمان نے کی جبکہ ہادیہ دودھی نے معاونت کی۔ تقریب میں نور فاطمہ میموریل سسٹم کی چیئرپرسن شاہیمہ طارق رحمان، پروفیسر طیب عباس اور منصور جمال بٹ نے شرکت کی۔
پینل میں گوہر بانو قریشی، عمار محسن، سنان طاہر اور سارہ کلیم شامل تھے، جنہوں نے اپنے کاروباری تجربات کی روشنی میں نوجوانوں کو فوڈ انٹرپرینیورشپ سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی۔
مقررین نے کہا کہ دسترخوان پر مل بیٹھنا اور ہاتھ سے کھانا پاکستانی معاشرتی و ثقافتی شناخت کی نمایاں روایات ہیں۔ برطانوی دور کے برصغیر کی چائے کی ثقافت پر اثرات، جین زی میں مغربی کھانوں کی بڑھتی مقبولیت اور سوشل میڈیا و عالمی رجحانات کے اثرات بھی زیر بحث آئے۔
مباحثے میں کہا گیا کہ نہاری اور پائے جیسے روایتی پکوانوں کی تیاری میں نسبتاً زیادہ وقت اور وسائل درکار ہوتے ہیں، جبکہ کئی مغربی طرز کے کھانے کم وقت اور لاگت میں تیار ہو جاتے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانی ریسٹورنٹس کی جانب سے وسیع صارفین تک رسائی کے لیے پاکستانی کھانوں کو بعض اوقات ’’ساؤتھ ایشین فوڈ‘‘ کے طور پر متعارف کرانے کے رجحان پر بھی گفتگو ہوئی۔
نشست میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کھانا محض ذائقہ نہیں بلکہ تاریخ، روایات اور قومی شناخت کا حصہ ہے، اس لیے پاکستانی کھانوں اور دسترخوان کی روایات کو نئی نسل تک منتقل کرنا ثقافتی شناخت کے تسلسل کے لیے ضروری ہے۔
*پریس ریلیز*
*نور شناخت اسپیکر سیریز میں پاکستانی کھانوں اور قومی شناخت پر مکالمہ*
دسترخوان، علاقائی ذائقوں اور بدلتے غذائی رجحانات کے تناظر میں ثقافتی شناخت پر گفتگو
*لاہور، 15 ستمبر 2026:* نور شناخت لیڈرشپ پروگرام کے زیرِ اہتمام فاطمہ میموریل ہسپتال میں نور شناخت اسپیکر سیریز کی خصوصی نشست “ہماری کوزین، ہماری شناخت “منعقد ہوئی، جس میں پاکستانی کھانوں کو محض ذائقے نہیں بلکہ تاریخ، تہذیب، جغرافیہ اور قومی شناخت کے اہم اظہار کے طور پر موضوعِ گفتگو بنایا گیا۔
نشست کی نظامت ماہا رحمان، شریک بانی نور فاؤنڈیشن نے کی جبکہ ہادیہ دودھی نے معاونت کی۔ تقریب میں محترمہ شاہیمہ طارق رحمان، چیئرپرسن نورفاطمہ میموریل سسٹم، پروفیسر طیب عباس اور منصور جمال بٹ نےبھی شرکت کی۔ مباحثے میں گوہر بانو قریشی، بانی دی لوف، عمار محسن، شریک بانی ریناز کچنیٹ، سنان طاہر،شریک بانی ڈاٹ کیفےاور سارہ کلیم، برینڈ منیجرپاپ اپ کچن، شامل تھے۔ پینلسٹس نے اپنے ذاتی اور کاروباری سفر کے تجربات بیان کرنے کے ساتھ نوجوانوں کو فوڈ انٹرپرینیورشپ سے متعلق عملی رہنمائی بھی فراہم کی۔
گفتگو میں دسترخوان پر اکٹھے بیٹھ کر اور ہاتھ سے کھانا بھی پاکستانی معاشرتی و ثقافتی شناخت کا حصہ قرار پایا جبکہ برصغیر میں چائے کے بڑھتے استعمال پر برطانوی دور کے اثرات بھی زیرِ بحث آئے۔مقررین نے بدلتے غذائی رجحانات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جین زی میں مغربی کھانوں کی مقبولیت پر سوشل میڈیا اور عالمی رجحانات بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور اس کی وجوہات میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ نہاری اور پائے جیسے روایتی پاکستانی پکوان وقت اور لاگت کے اعتبار سے زیادہ وسائل چاہتے ہیں جبکہ کئی مغربی طرز کے کھانے نسبتاً کم وقت اور لاگت میں تیار ہو جاتے ہیں۔ بیرونِ ملک پاکستانی ریسٹورنٹس کی جانب سے وسیع تر صارفین تک رسائی کے لیے پاکستانی کھانوں کو بعض اوقات ساؤتھ ایشین کھانوں کے طور پر متعارف کرانے کے کاروباری رجحان پر بھی گفتگو کی گئی۔
نشست میں اس امر پر زور دیا گیا کہ کھانا محض ذائقہ نہیں بلکہ ہماری تاریخ، روایات اور شناخت کا حصہ ہے۔ بدلتے عالمی رجحانات کے درمیان پاکستانی کھانوں اور دسترخوان سے جڑی روایات کو سمجھنا اور انہیں نئی نسل تک منتقل کرنا ہماری قومی و ثقافتی شناخت کے تسلسل کے لیے اہم ہے۔