بانی پی ٹی آئی کے نجی ہسپتال میں علاج اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف درخواستوں پر آئینی عدالت کے اہم ریمارکس، نوٹس جاری

بانی پی ٹی آئی کے علاج اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف درخواست پر آئینی عدالت کے اہم ریمارکس

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت میں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے نجی ہسپتال میں علاج کے معاملے پر درخواست کی سماعت ہوئی۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ جیل رول نمبر 197 میں کوئی ابہام نہیں، قیدی کے علاج کے اخراجات سرکار برداشت کرے گی، عدالت کا حکم قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نجی ہسپتال ہی کیوں، سرکاری ہسپتال کیوں نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ نجی ہسپتال میں علاج جیل مینول کے خلاف ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ تمام قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔

عدالت نے اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی درخواست پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئینی و قانونی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا اور سماعت کل تک ملتوی کردی۔

دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف درخواست پر بھی نوٹس جاری کردیا۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شیر افضل مروت کی درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ علی امین گنڈاپور نے رضاکارانہ طور پر وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ سزا یافتہ بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر ان سے استعفیٰ لیا گیا۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نااہل شخص کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں