افغان سفیر کا این ڈی یو میں خطاب، پاکستان کے سیکیورٹی خدشات پر براہِ راست مذاکرات کی پیشکش
اسلام آباد: پاکستان میں افغان سفیر سردار احمد شکیب نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) میں فوجی افسران کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہتا، تاہم پاکستان کے سیکیورٹی خدشات افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کا جواز نہیں بن سکتے۔
افغان سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ خطاب کی تفصیلات کے مطابق افغان سفیر نے کہا کہ اگر افغانستان سے مخصوص سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے تعاون کی توقع کی جاتی ہے تو افغانستان بھی اپنے سیکیورٹی خدشات پر پاکستان کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرنا چاہتا ہے۔
سردار احمد شکیب نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ان خدشات کو پوری طرح سمجھتا ہے جو افغان سرزمین سے ممکنہ سیکیورٹی خطرات سے متعلق ہیں، تاہم سیکیورٹی سے متعلق الزامات مخصوص، درست اور ٹھوس معلومات، قابلِ شناخت افراد، مخصوص نیٹ ورکس اور مخصوص کیسز سے منسلک ہونے چاہئیں۔
افغان سفیر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے موجودہ حقائق کے بارے میں فرسودہ مفروضوں سے آگے بڑھنا ہوگا اور افغانستان کو گزشتہ کئی دہائیوں کی عینک سے نہیں پرکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ افغانستان سرد جنگ کا افغانستان نہیں، نہ ہی 1990 کی دہائی کا افغانستان ہے اور نہ ہی وہ افغانستان ہے جو 2001 کے بعد غیر ملکی فوجی موجودگی اور سیاسی مداخلت کے براہِ راست اثر میں تھا۔
سردار احمد شکیب کے مطابق 2021 کے بعد کابل میں ایک نئی سیاسی حقیقت سامنے آئی ہے، جسے پاکستان سمیت خطے کے ممالک کو موجودہ تعلقات اور سیکیورٹی معاملات کو سمجھتے ہوئے مدنظر رکھنا چاہیے۔
افغان سفیر نے اپنے خطاب میں دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی خدشات کے حل کے لیے براہِ راست رابطے اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔