وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت

وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت

بشکیک (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف تین روزہ سرکاری دورے پر کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

بشکیک پہنچنے پر کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین عادلبیک قاسمالییف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا استقبال کیا۔

وزیراعظم ایس سی او سربراہی اجلاس سے خطاب کریں گے اور علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ وہ ایس سی او پلس سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جبکہ ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت بھی وزیراعظم کے دورے کا حصہ ہے۔

دورے کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف ایس سی او اجلاس میں شریک مختلف ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، تجارت و سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے بشکیک میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف سے بھی ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم نے صدر شوکت مرزیایوف اور برادر ملک ازبکستان کے عوام کو آزادی کی 35ویں سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کی۔

وزیراعظم نے فروری 2026 میں صدر مرزیایوف کے دورۂ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے اور اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کے پہلے اجلاس نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی رفتار فراہم کی ہے۔

شہباز شریف نے قیادت کی سطح پر کیے گئے فیصلوں، خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون سے متعلق فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔

دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان سے بھی بشکیک میں ملاقات ہوئی۔ ایرانی صدر نے وزیراعظم کا استقبال کیا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم اپنے دورے کے دوران کرغزستان کے صدر صدار ژاپاروف سے بھی دوطرفہ ملاقات کریں گے، جس میں پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

وزیراعظم کا دورہ پاکستان کی علاقائی روابط، اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں